Sunday, January 8, 2012

خطبہ صدارت: بہ سلسلہ "اے حسن کوزہ گر"



احباب حاشیہ !

جاوید انور کی یاد کے نام منعقد ہونے والا یہ اہم اجلاس اختتامی مرحلے میں ہے اور مجھے اپنے صدارتی کلمات آپ تک پہنچانے ہیں اور واقعہ یہ ہے کہ اس سارے عرصہ میں، مجھے جاوید انور کی یاد نے واقعی بہت ستایا ہے ۔ گزشتہ ایک اجلاس کے دوران ، جب کہ میں نےشاید ناحق دل برداشتہ ہو کر بحث سے الگ ہونے کا ارداہ ظاہر کیا تھا تو جاوید انور نے مجھے میسیج بھیجا" او بھائی کیا کرنے لگے ہو ، یہ ظلم نہ کرنا، میں پاکستان میں ہوتا تو تمہارے ہاں آتا ، ناشتے پر، ناشتہ اڑاتا اور تمہیں مناتا۔۔۔ " تو یوں ہے کہ وہ پاکستان آیا، اسلام آباد پہنچا، میں نے اس کے اعزاز میں ناشتے پر نظم نشست کا اہتمام کیا ، شہر بھر کے نظم نگار/شاعر جمع کیے، افتخار عارف، جلیل عالی، یاسمین حمید، علی محمد فرشی، نصیراحمد ناصر، پروین طاہر، ظفر سید، سعید احمد ، خلیق الرحمن ؛ سب نے نظمیں سنائیں ،جاویدانور سے نظمیں سنی گئیں ۔ وہ اتوار تھا۔ کئی گھنٹے ہم ساتھ رہے ۔ پھر وہ لاہور چلا گیا اور جمعہ کے روز اس کے مر جانے کی خبر آگئی ۔ سوموار ہم اس کی میت کو کندھا دینے لاہور پہنچے تھے ۔ تو یوں ہے کہ میری اتنی ہی اس سے ملاقات تھی مگرہم اتنا قریب آگئے تھے کہ یہ بچھڑنا مجھے سنبھلنے نہیں دے رہا۔ منشایاد میرے بہت قریب تھا وہ چل بسا ، جاوید انور قریب آکر بچھڑ گیا ایسی کیفیت میں یہ اجلاس شروع ہوا اور شاید ایک اداسی سی ہم سب محسوس کر رہے تھے یا پھر شاید میں ہی اتنا بجھا ہوا تھا کہ جو گرم جوشی اس طرح کے مباحث کے لیے درکار تھی اس کے لیے فضا بنانے میں ناکام ہوگیا تھا۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ مجموعی طور پر اس اجلاس میں ستیہ پال آنند کی نظم پر اہم مکالمہ قائم ہوا ہےجس کے لیے ابتدائیہ نگار علی محمد فرشی نے بنیادیں فراہم کر دی تھیں ۔ محمد یامین، رفیق سندیلوی،ظفرسید، ابرار احمد، علی ارمان، پروین طاہر، عارفہ شہزاد، صدف مرزا نے گفتگو میں بھرپور حصہ لیا ، خود شاعر کا نوٹ بھی اس باب میں بہت اہم ہے یوں یہ اجلاس کامیابی سے ہمکنار ہوا جس کے لیے میں آپ احباب کا یہیں شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔

خواتین وحضرات!

ستیہ پال آنند نے میری مشکل یہ کہہ کر آسان کر دی ہے کہ ' کاش"حاشیہ" کی یہ تنگ کالم۔بائی۔کالم" گلی نہ ہوتی اوران پاس جامعہ میں ایک کمرہ ء جماعت ہوتا اور وہ دو عد د "فلو چارٹ" بنا کر، راشد کی نظم کو ایک طرف اور اپنی نظم کو دوسری طرف، سامنے دیوار پر " اوور ہیڈ پروجیکٹر" کی مد د سے یا "سلائڈ چینجر" کے ذریعے باری باری سےمنعکس کر سکتے۔ (یعنی صرف دو نظمیں نہیں، بلکہ ان کا "فلو چارٹ)'۔۔۔۔یہی "کاش" میرے پاس بھی ہے ۔ میں بھی دو نظموں کا فلو چارٹ اس طرح تو نہیں دکھا سکتا ، ان دونوں نظموں پر باری باری گفتگو تو کر سکتا ہوں ۔ تو یوں ہے کہ ستیہ پال آنند کی نظم پر بات کرنے سے پہلے / اور ساتھ ساتھ ہم راشد کو بھی یاد کر رہے ہیں اور کریں گے، اس لیے کہ خود نظم نگار نے پوری نظم کی تخلیقی فضا ہی راشد کی "حسن کوزہ گر" کو سامنے رکھ کر بنائی ہے۔ اچھا، ستیہ پال آنند کے ہاں یہ کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں ہے، یہ تو ان کے محبوب قرینوں میں سے ایک قرینہ ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ وہ لوک روایات، دیو مالائوں، قصوں کہانیوں، حکایتوں اور ماقبل دانش وروں کے اقوال اور شاعروں کے کلام سے کچھ نہ کچھ اخذ کرتے ہیں، ایک مکالمے قائم کرنے کے لیے ، اور اپنے نظم کی تخلیقی فضا ڈھال لیا کرتے ہیں ۔ مثلاً دیکھئے ان کی نظم "کل کا نستعلیق بچہ" کے نیچے نوٹ درج ہے "ہانس اینڈرسن کی شہرہ آفاق کہانی کے تناظر میں لکھی گئی" اور نظم "آدھا بھائی جاگ رہا ہے" کا پاورقی نوٹ ہے" مرکزی خیال پنجاب کی ایک لوک کہانی سے ماخوذ" اسی طرح "عالم ارواح کی باتیں ۔ نطشے، برگساں اور اقبال" کو پڑھتے ہوئے اقبال ان کے سامنے رہا جب کہ "مجھے نہ کر وداع"، "انتقام " اور زیر نظر نظم "اے حسن کوزہ گر" لکھتے ہوئے ن م راشد ۔

احباب حاشیہ!"اے حسن کوزہ گر" کے تخلیقی لمحوں میں جب ستیہ پال آنند ، ن م راشد کی نظم"حسن کوزہ" کے مرکزی کردار حسن کوزہ گر،جہان زاد، لبیب، شہر حلب حتی کہ عطار یوسف اور خود ن م راشد کو خود سے جدا کرنے پر ایک لمحہ کے لیے بھی تیار نہیں ہورہا ہے تو یہ کیوں کر ممکن ہے کہ اس پر بات نظم پر بات کرتے ہوئے اتنی ہی شدت سے راشد یاد نہ آئے جتنی شدت سے وہ آنند جی کی نظم سے ابل رہا ہے۔ میں نے کہا نا کہ راشد سے آنند جی کا یہ پہلا مکالمہ نہیں ہے مثلاً ان کی ایک کتاب " مجھے نہ کر وداع " ہی لے لیں، اس کا نام پڑھتے ہی آپ کو راشد یاد آئے گا ۔ شاعر خود اعلان کر کرکے آپ کو یاد دلاتا ہے کہ مکالمہ راشد سے ہورہا ہے اور معاملہ لو اور ہیٹ کا ہے۔
راشد نے "مجھے وداع کر" میں کہا تھا :
"مجھے وداع کر/بہت ہی دیر،دیر جیسی ہوگئی/کہ اب گھڑی میں بیسویں صدی کی رات بج چکی/شجر حجر، وہ جانور، وہ طائران خستہ پر/ہزار سال سے جو نیچے ہال میں زمین پر/مکالمے میں جمع ہیں/ وہ کیا کہیں گے ۔ ۔ ۔ میں خدائوں کی طرح / ازل کے بے وفائوں کی طرح۔ ۔ ۔ / پھر اپنے عہد منصبی سے پھر گیا / مجھے وداع کر ، اے میری ذات۔ ۔ ۔/"
جب آنند نے "مجھے وداع کر" کو اوندھا کر " مجھے نہ کر وداع " کر لیا اور"ن م راشد کی نیک روح سے معذرت کے ساتھ" فکری اختلاف کے لیے گنجائشیں بنانے کے جتن کیے:
"مجھے نہ کر وداع/ مجھے نہ کر وداع پھر/شجر حجر، وہ جانور، وہ طائران خستہ پر/ جو میرے حلفیہ بیان کے لیے / کھڑے ہیں نیچے 'ہال' میں / میں کیا مکالمہ کروں گا ان سے 'میری ذات' بول / ۔ ۔ ۔ / سماع ہوں ، نہ صوت ہوں/ تواتر حیات میں ہوں منجمد/ نہ زندگی ، نہ موت ہوں!/ مجھے نہ کر وداع/۔ ۔ ۔ "

راشد کا مسئلہ یہ رہا ہے کہ وہ خدا سے، تصوف سے ، مذہبی علامتوں سے، ماضی سے اور روایت سے شعوری طور پر بچ نکلنے کے کھیکھن کرتا رہا اوراپنی نثری تحریروں میں اس کا اعلان بھی کرتا رہا مگر جب ہم اس کی نظموں کا جم کر مطالعہ کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا تخلیقی باطن، اس کی خواہش اور کوشش کے باوجودان سب سے کچھ نہ کچھ کشید کرتا رہا ہے ۔ مثلاً اسی نظم کو دیکھئے جس کے معنی کو ایک "نہ" لگا کر آنند جی نے اوندھانا چاہا ہے اس میں تخلیقی وفور نے پہلے سے راشد کی شعوری فکریات سے کٹ کر اس کے تخلیقی وفور سے معاملہ کر رکھا ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آنند جی نے راشد کی اس نظم سے مکالمہ کرتے ہوئے "ذات" جیسی صوفیانہ اصطلاح سے معنی کیوں نہ اخذ کیے ،اس کی مابعد الطبعیاتی فضا کو کیوں نہیں پرکھا اور اس بابت کیوں نہیں سوچا کہ "ذات" سے جدائی کا یہ مطالبہ پہلی بار نہیں ہورہا تھا ۔ یہ واقعہ پہلے بھی ہو چکا ، اور انسان جب اپنے وجود میں قائم ہونے میں ناکام ہو گیا ہے اور اسی"ذات" میں پھر پناہ گزیں ہو گیا ہے تو ایک بار پھر اس "ذات" سے "وداع" ہونے کے معنی "شہود" کے بھی ہیں تخلیق کائنات کے مقصد کی تکمیل اور آدمی کی "انا" کا قیام بھی ۔ صاحب، یوں دیکھیں تو کیا "ذات" سے "مجھے نہ کروداع" والا آنندجی کا مطالبہ ، کیا راشد کی نظم کی سطح پر چند خراشوں کا سا نہیں ہوگیا؟۔

ن م راشد کی نظم " انتقام " پر آنند جی کا ہاتھ درست پڑا ہے۔ یہاں واقعی ایک فکری انحراف نظر آتا ہے :

"۔/ ۔ ۔ ۔/کہ شاید "رات بھر" میں/ "اپنے ہونٹوں سے" برابر صبح تک لیتا رہوں گا/"اس سے اس سے ارباب وطن کی بے بسی کا انتقام"/وہ "برہنہ جسم" وہ "چہرہ" وہ "خدوخال" سب کچھ/بن چھوئے ہی لوٹ آیا تھا کہ میرے ملک اب آزاد تھے / اور یہ مکافاتی طریقہ / مجھ کو بودا اور بچکانہ لگا تھا!"

جی صاحب ، میں نے کہا کہ آنند جی نے راشد کی فکر پر خوب گرفت کی مگر یوں ہے کہ یہاں بھی وہ کچھ کچھ الجھا رہے ہیں ۔ مثلاً راشد کا جنسی تشدد والا رویہ محض "بودا" ہے نہ"بچکانہ" اور پھر "خدوخال" کے ساتھ "بن چھوئے" کے الفاظ لطف نہیں دے رہے۔ خیر میں آنند جی کی نظم "اے حسن کوزہ گر" کی طرف آنا چاہوں گا جو راشد، اس کے تراشے ہوئے کرداروں اور اس کے ڈھالے ہوئے ماحول سے مکالمہ کرنے کے جتن کر رہی ہے ۔

پہلے کچھ ن م راشد کی نظم" حسن کوزہ گر " کے حوالے سے:

"حسن کوزہ گر" کے حوالے سے یہ جو کہا گیا ہے کہ اس "نظم کا ذہنی خاکہ’’وزیرِ چنیں‘‘ کی طرز پر تیار ہوا تھا"("۔ ۔ ۔/ تو جب سات سو آٹھویں رات آئی / تو کہنے لگی شہرزاد/ ۔ ۔ ۔ ۔")، مجھے بہت حد تک درست معلوم ہوتا ہے ۔ اور اس بات پر بھی دل ٹھکتا ہے کہ" تخلیقی عمل کے دوران میں شاعر کے لاشعور نے ایسی زقند بھری کہ نظم شاعر کی گرفت سے آزاد ہو کر نامعلوم بلندیوں کی طرف پرواز کرگئی۔" تاہم مجھے یہ مان لینے میں تامل ہے کہ ان نظموں میں کوئی معنوی بعد پیدا ہو گیا ہے یا یہ کہ اس کے تخلیقی خاکے میں راوی کے اعتبار سے اتھل پتھل ہو گئی ہے ۔ مجھے اپنی بات دلیل سے اور متن کے اندر سے ثابت کرنا ہو گی لہذا تھوڑا سا توقف کیجئے کہ ان سوالوں کا جواب دینے سے پہلے مجھے ابھی اس نظم کے مجموعی مزاج پر ایک دو باتیں عرض کرنا ہیں۔ مگر اس سے پہلے ایک وضاحت : ایک معزز رکن نے لکھ دیا تھا کہ یعنی راشد اور آنند جی کی نظمیں ایک ہی بحر میں ہیں۔تاہم اب ان کی طرف سے معذرت آگئی ہے کہ ایسا درست نہ تھا ۔ آنند جی نے ہی درست کہا ہے کہ ان نظم بحر متدارک میں ہے یعنی" فاعلن فاعلن" کی تکرار میں،جب کہ راشد کی حسن کوزہ گرکی پہلی اور چوتھی نظم " فعولن فعولن" کی تکرار میں ، دوسری "فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن۔ اور تیسری " مفاعلن مفاعلن کی تکرار میں ہے ۔۔۔۔ معذرت ہو چکی ، مگر مجھے اپنی طرف سے یہ اضافہ کرنا ہے کہ بجا کہ راشد کی چاروں نظموں کے مزاج، آہنگ اور معیار میں فرق سہی ، بعد کی نظمیں اثر انگیزی میں کم سہی مگر واقعہ یہ ہے زمانی وقفوں سے تخلیق ہونے والی یہ سب نظمیں معنیاتی سطح پر ایک د وسرے سے مربوط ہیں ۔

خواتین و حضرات !

ن م راشد نے اپنی نظم "حسن کوزہ گر" کے چار حصوں میں بہ ظاہر ایک کہانی کہی ہے ۔ کہانی کا مرکزی کردار ، جو بہ ظاہر راوی ہونے کا سوانگ بھر رہا ہے وہ بغداد کا حسن نامی ایک کوزہ گر ہے ۔ جب وہ ایک روز بازار سے گزر رہا ہوتا ہے کہ اس کی نظر عطار یوسف کی دکان کے سامنے سے موجود "جہاں زاد" پر پڑتی ہے :۔۔۔۔/تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطّار یوسف/کی دکّان پر میں نے دیکھا/تو تیری نگاہوں میں وہ تابناکی/تھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں/جہاں زاد، نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں/۔۔۔"یہ بات نوٹ کرنے کی ہے احباب حاشیہ کہ نظم عین آغاز میں ہی واقعاتی ترتیب میں اکھاڑ پچھاڑ لاتی ہے ، دیکھئے نظم وہاں سے شروع نہیں ہو رہی جہاں سے حسن کوزہ گر کی نظر جہاں زاد پر پڑی تھی بلکہ اس کے بیچ بہت سا زمانی عرصہ گزر چکا ہے جس میں نو سال کی دیوانگی کا زمانہ بھی شامل ہے۔ راوی کا بہروپ بھرنے والا (میں یہ وضاحت آگے چل کر کروں گا کہ میں حسن کوزہ گر کو راوی کیوں نہیں کہہ رہا راوی کا سوانگ بھرنے والا کیوں کہہ رہا ہوں )حسن کوزہ گر سوختہ سر ہے اور نیچے گلی میں کھڑا جہاں زاد سے مخاطب ہے اور اسے بتانا پڑ رہا ہے کہ وہ حسن کوزہ گر ہے: "جہاں زاد، نیچے گلی میں ترے در کے آگے/یہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!"۔ یہاں بظاہر راشد کا تراشا ہوا یہ کردار ہماری اپنی عشقیہ روایت سے مستعار لیا ہوا کردار لگتا ہے ۔ ایک ایسا شخص ، دل جس کے قابو میں نہ رہا، جو عشق میں مبتلا ہوا اور اپناآپ بھول بیٹھا : " ۔ ۔ ۔ ۔/یہ وہ دور تھا جس میں میں نے/کبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانب/پلٹ کر نہ دیکھا۔۔۔ /وہ کوزے مرے دست چابک کے پتلے/گل و رنگ و روغن کی/مخلوق بے جاں/وہ سر گوشیوں میں یہ کہتے/حسن کوزہ گر اب کہاں ہے/وہ ہم سے خود اپنے عمل سے/خداوند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں" یہیں اس نظم کا وہ ٹکڑا بھی دھیان میں رہے جس میں اپنی وفا شعار بیوی کوحسن نے سوختہ بخت کہا تھا ، جو اسے چاک پر پا بہ گِل سر بزانو دیکھتی تو اسے اس کیفیت سے نکل آنے کو کہتی اور سمجھاتی کہ اسے اپنی خستہ معیشت اور جینے کے سہارے چاک سے دل لگانا چاہیئے۔"۔۔۔/تو شانوں سے مجھ کو ہلاتی ۔۔۔/وہی چاک جو سالہا سال جینے کا تنہا سہارا رہا تھا/وہ شانوں سے مجھ کو ہلاتی/حسن کوزہ گر ہوش میں آ/حسن اپنے ویران گھر پر نظر کر/یہ بچّوں کے تنّور کیونکر بھریں گے/حسن، اے محبّت کے مارے/محبّت امیروں کی بازی/حسن اپنے دیوار و در پر نظر کر"
حسن اس ساری صورت حال سے آگاہ تھا اور اپنی وفا شعار بیوی کی پکار کو ایسی نوائے حزیں گردانتا جیسےکسی ڈوبتے شخص کو زیرگرداب پکارا جارہا ہو ۔ تو یوں ہے صاحب کہ اپنے آپ سے، اپنے بال بچوں اور کام کاج سے بے نیاز کر دینے والےعشق کی روایتی کہانی ، نظم کے پہلے حصے کی حد تک یہاں تمام ہو جاتی ہے۔ مگر جناب نظم محض اتنی تو نہیں ہے اس میں بغداد کی ایک خواب گوں رات کا بھی تو ذکر ہے: ۔۔۔/جہاں زاد بغداد کی خواب گوں رات/وہ رود دجلہ کا ساحل/وہ کشتی وہ ملّاح کی بند آنکھیں/کسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیے/ایک ہی رات وہ کہربا تھی/کہ جس سے ابھی تک ہے پیوست اس کا وجود/اس کی جاں اس کا پیکر/مگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلا/حسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے/۔۔۔۔" تو گویا صاحب، یہ محض جہاں زادکی قاف کی سی افق تاب آنکھوں کی تابناکی نہ تھی کہ جس سےحسن کوزہ گرکےجسم و جاں، ابرو مہتاب کارہگزر بن گئے تھے، بیچ میں لذت بھرا جسم بھی آگیا تھا ۔ لیجئے یہیں کہیں شاعر نے حسن کوزہ گر کی زبان سے اس کردار کے لیے "شہراوہام کے خرابوں کا مجذوب "کی شناخت بھی قائم کی ہے اور نظم کا یہ حصہ یوں مکمل کیا ہے: "تمنّا کی وسعت کی کس کو خبر ہے جہاں زاد لیکن/تو چاہے تو بن جاؤں میں پھر/وہی کوزہ گر جس کے کوزے/تھے ہر کاخ و کو اور ہر شہر و قریہ کی نازش/تھے جن سے امیر و گدا کے مساکن درخشاں/تمنّا کی وسعت کی کس کو خبر ہے جہاں زاد لیکن/تو چاہے تو میں پھر پلٹ جاؤں ان اپنے مہجور کوزوں کی جانب/گل و لا کے سوکھے تغاروں کی جانب/معیشت کے اظہار ِ فن کے سہاروں کی جانب/کہ میں اس گل و لا سے ، اس رنگ و روغن/سے پھر وہ شرارے نکالوں کہ جن سے/دلوں کے خرابے ہوں روشن۔ " تو ایساے صاحب کہ یہ شہر اوہام وہی ہے جو ہمارے تجربے کی روایت میں ہے، اگر میں آنند جی کی زبان میں بات کروں تو جہاں زاد اس فاحشہ کی سی ہے جو ہمیں اپنے جلوے دکھاتی لبھاتی اور پہلی نظر میں نادان نظر آنے والی ، مگرآخر کار اپنی لذتوں کا اسیر کرکے خاندان، معیشت اور تخلیقی مزاج اور امکانات کو تباہ کر دینے والی ہے۔ یہ جو دنیا کو فاحشہ سے تعبیر دی جاتی ہے لبھانے والی ، لذت دینے والی اور گم راہ کر ڈالنے والی ، تو کیا یوں نہیں ہے کہ راشد نے بھی جہاں زاد کو اسی دنیا کا نمائندہ بنایا ۔ اس طرح دیکھیں گے تو یہ کرداراور خود حسن کوزہ گر کا کردار محض کہانی کے کردار نہیں رہیں گے ان کی علامتی جہت بھی نمایاں ہو کر سامنے آجائے گی اور آپ جانتے ہی ہیں کہ علامتی کہانی کا ایک وتیرہ یہ بھی ہے کہ اس کا خارجی اسٹریکچر اتنا مربوط نہیں ہوتا جتنا کہ اس کے داخل میں موجود معنیاتی نظام ۔

"حسن کوزہ گر " کے دوسرے حصے کو بھی میں پہلے حصے سے مربوط پاتا ہوں کہ اس میں بات اسی شب بے راہ روی کے نشاط کو یاد کرکے شروع کی جاتی ہے اور یہ انکشاف ہوتا ہے کہ جہاں زادی کی بے باکی کی وجہ سے اس کی بے راہ روی کی حقیقت حسن پر اس روز ہی کھل گئی تھی :"اے جہاں زاد،/نشاط اس شبِ بے راہ روی کی/میں کہاں تک بھولوں؟/زور ِ مَے تھا، کہ مرے ہاتھ کی لرزش تھی/کہ اس رات کوئی جام گرا ٹوٹ گیا۔۔۔ /تجھے حیرت نہ ہوئی/کہ ترے گھر کے دریچوں کے کئ شیشوں پر/اس سے پہلے کی بھی درزیں تھیں بہت۔ ۔ ۔ /" یہ جو راشد نے یہاں شیشوں میں درزیں بنا ڈالیں تو یوں لگتا ہے ، جام ٹوٹے ، دریچوں کے شیشوں پر ، اور انہیں بھی توڑ کر یوں دولخت کرتے رہے کہ محض خراشیں نہ رہیں وہ درزیں بن گئیں ۔ خیر اس کے فاحشہ ہونے کی ،اسے اس رات ہی خبر تھی جس کا چرچا ہم نے آنند جی کی نظم میں دیکھاہے ۔ اس حصے میں اس رات کے علاوہ اس اپنا جھونپڑا ہے محرومیوں کی مکڑی کے جالوں والا ، افلاس کے مارے ہوئے اجداد کی نشانی معیشت کا نشان چاک ہے، اور وہ وفاشعار بیوی ہے جسے اب بھی حسن سوختہ بخت کہتا ہے ، سادہ محبت، جس میں شب وروز کا بڑھتا ہوا کھوکھلا پن ہے اور ایسی تنہائی جس کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ۔ یہیں حسن ایک نتیجہ اخذ کرتا ہے:۔ ۔ ۔ / تجھے جس عشق کی خو ہے/مجھے اس عشق کا یارا بھی نہیں/تو ہنسے گی، اے جہاں زاد، عجب بات/کہ جذبات کا حاتم بھی مَیں/اور اشیا کا پرستار بھی مَیں/اور ثروت جو نہیں اس کا طلب گار بھی مَیں!/تو جو ہنستی رہی اس رات تذبذب پہ مرے/میری دو رنگی پہ پھر سے ہنس دے!/عشق سے کس نے مگر پایا ہے کچھ اپنے سوا؟" اس ٹکڑے کو تعبیر دیے بغیر ہم محض اس نظم کی خارجی سطح پر تیرتے رہیں گے ۔ تاہم اگر میری ابتدائی معروضات آپ کے ذہن میں تازہ ہیں تو مجھے کچھ دہرانے کی حاجت نہیں رہے گی اور یہ ٹکڑا اپنی تفسیر آپ ہو جائے گا ۔ نظم کا یہ حصہ بھی یہ سجھانے پر تمام ہوتا ہے کہ ہر عشق ایسا سوال ہوتا ہے جس کا جواب عشق کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا اور یہ بات تو پہلے ہی کہی جا چکی کہ حسن جس عشق کی بات کر رہا ہے وہ اپنے آپ کو پہچاننے کا نام ہے۔ اسی سے ذات کا سمندر آئینہ ہوتا ہے ، اور یہی کسی بھی فن کی انتہا ہوسکتا ہے۔

خیر مجھے تو اس نظم کے خارجی اسٹریکچر میں بھی کوئی رخنہ نظر نہیں آتا ، اب تمنا کی وسعت کے معنی بھی طے ہو جاتے ہیں۔ اور اس بات کے بھی کہ اگر اپنے ایسے عشق کی فرمائش پر ایک تخلیق کار اپنے فن کی طرف لوٹ بھی جائے گا تو ممکن ہے وہ ایک خاص حد تک آگے بڑھے ، اپنے فن سے ایسے شرارے نکالے جس سے دلوں کے خرابے روشن ہوں مگر یہ امکان شاعر نے "لیکن" لکھ کر شروع کیا ہے کہ وہ جانتا ہے تمنا کی وسعت یہاں پہنچ کر تمام نہیں ہوتی ہے۔ خواتین و حضرات ! میں نے اس ابتدائی حصہ پر ذرا تفصیل سے اس لیے بات کی کہ جسے محض ماضی کا قصہ سمجھا جارہا ہے اس کی علامتی اورمتصوفانہ جہت بھی نمایاں ہو جائے۔ اب آپ بہ سہولت فیصلہ دے پائیں گے کہ:

۔ زندگی محض ایک خاندان کو پالنا اور اپنے معیشت کے چاک کو چلانے کا نام نہیں ہے

۔ عشق محض کسی کی نگاہ کا اسیر ہونے اور اس کے جسم کی لذتوں سے لطف اندوز ہونے کا نام نہیں ہے

۔ فن محض ذریعہ معاش نہیں ہوتا، سچی لگن اور تمنا کی بے پناہ وسعت ہی اس میں ایسے شرارے بھرسکتی ہے جس سے دلوں کے خرابے روشن ہوتے ہیں

۔ عشق وہی سچا ہے عاشق کو ذات کی معرفت دے ، تمنا کی اس وسعت کے ساتھ جس کا کوئی کنارا نہیں ہوتا

ن م راشد کی نظم " انتقام " پر آنند جی کا ہاتھ درست پڑا ہے۔ یہاں واقعی ایک فکری انحراف نظر آتا ہے :

"۔/ ۔ ۔ ۔/کہ شاید "رات بھر" میں/ "اپنے ہونٹوں سے" برابر صبح تک لیتا رہوں گا/"اس سے اس سے ارباب وطن کی بے بسی کا انتقام"/وہ "برہنہ جسم" وہ "چہرہ" وہ "خدوخال" سب کچھ/بن چھوئے ہی لوٹ آیا تھا کہ میرے ملک اب آزاد تھے / اور یہ مکافاتی طریقہ / مجھ کو بودا اور بچکانہ لگا تھا!"

جی صاحب ، میں نے کہا کہ آنند جی نے راشد کی فکر پر خوب گرفت کی مگر یوں ہے کہ یہاں بھی وہ کچھ کچھ الجھا رہے ہیں ۔ مثلاً راشد کا جنسی تشدد والا رویہ محض "بودا" ہے نہ"بچکانہ" اور پھر "خدوخال" کے ساتھ "بن چھوئے" کے الفاظ لطف نہیں دے رہے۔ خیر میں آنند جی کی نظم "اے حسن کوزہ گر" کی طرف آنا چاہوں گا جو راشد، اس کے تراشے ہوئے کرداروں اور اس کے ڈھالے ہوئے ماحول سے مکالمہ کرنے کے جتن کر رہی ہے ۔

پہلے کچھ ن م راشد کی نظم" حسن کوزہ گر " کے حوالے سے:

"حسن کوزہ گر" کے حوالے سے یہ جو کہا گیا ہے کہ اس "نظم کا ذہنی خاکہ’’وزیرِ چنیں‘‘ کی طرز پر تیار ہوا تھا"("۔ ۔ ۔/ تو جب سات سو آٹھویں رات آئی / تو کہنے لگی شہرزاد/ ۔ ۔ ۔ ۔")، مجھے بہت حد تک درست معلوم ہوتا ہے ۔ اور اس بات پر بھی دل ٹھکتا ہے کہ" تخلیقی عمل کے دوران میں شاعر کے لاشعور نے ایسی زقند بھری کہ نظم شاعر کی گرفت سے آزاد ہو کر نامعلوم بلندیوں کی طرف پرواز کرگئی۔" تاہم مجھے یہ مان لینے میں تامل ہے کہ ان نظموں میں کوئی معنوی بعد پیدا ہو گیا ہے یا یہ کہ اس کے تخلیقی خاکے میں راوی کے اعتبار سے اتھل پتھل ہو گئی ہے ۔ مجھے اپنی بات دلیل سے اور متن کے اندر سے ثابت کرنا ہو گی لہذا تھوڑا سا توقف کیجئے کہ ان سوالوں کا جواب دینے سے پہلے مجھے ابھی اس نظم کے مجموعی مزاج پر ایک دو باتیں عرض کرنا ہیں۔ مگر اس سے پہلے ایک وضاحت : ایک معزز رکن نے لکھ دیا تھا کہ یعنی راشد اور آنند جی کی نظمیں ایک ہی بحر میں ہیں۔تاہم اب ان کی طرف سے معذرت آگئی ہے کہ ایسا درست نہ تھا ۔ آنند جی نے ہی درست کہا ہے کہ ان نظم بحر متدارک میں ہے یعنی" فاعلن فاعلن" کی تکرار میں،جب کہ راشد کی حسن کوزہ گرکی پہلی اور چوتھی نظم " فعولن فعولن" کی تکرار میں ، دوسری "فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن۔ اور تیسری " مفاعلن مفاعلن کی تکرار میں ہے ۔۔۔۔ معذرت ہو چکی ، مگر مجھے اپنی طرف سے یہ اضافہ کرنا ہے کہ بجا کہ راشد کی چاروں نظموں کے مزاج، آہنگ اور معیار میں فرق سہی ، بعد کی نظمیں اثر انگیزی میں کم سہی مگر واقعہ یہ ہے زمانی وقفوں سے تخلیق ہونے والی یہ سب نظمیں معنیاتی سطح پر ایک د وسرے سے مربوط ہیں ۔

"حسن کوزہ گر " کے دوسرے حصے کو بھی میں پہلے حصے سے مربوط پاتا ہوں کہ اس میں بات اسی شب بے راہ روی کے نشاط کو یاد کرکے شروع کی جاتی ہے اور یہ انکشاف ہوتا ہے کہ جہاں زادی کی بے باکی کی وجہ سے اس کی بے راہ روی کی حقیقت حسن پر اس روز ہی کھل گئی تھی :"اے جہاں زاد،/نشاط اس شبِ بے راہ روی کی/میں کہاں تک بھولوں؟/زور ِ مَے تھا، کہ مرے ہاتھ کی لرزش تھی/کہ اس رات کوئی جام گرا ٹوٹ گیا۔۔۔ /تجھے حیرت نہ ہوئی/کہ ترے گھر کے دریچوں کے کئ شیشوں پر/اس سے پہلے کی بھی درزیں تھیں بہت۔ ۔ ۔ /" یہ جو راشد نے یہاں شیشوں میں درزیں بنا ڈالیں تو یوں لگتا ہے ، جام ٹوٹے ، دریچوں کے شیشوں پر ، اور انہیں بھی توڑ کر یوں دولخت کرتے رہے کہ محض خراشیں نہ رہیں وہ درزیں بن گئیں ۔ خیر اس کے فاحشہ ہونے کی ،اسے اس رات ہی خبر تھی جس کا چرچا ہم نے آنند جی کی نظم میں دیکھاہے ۔ اس حصے میں اس رات کے علاوہ اس اپنا جھونپڑا ہے محرومیوں کی مکڑی کے جالوں والا ، افلاس کے مارے ہوئے اجداد کی نشانی معیشت کا نشان چاک ہے، اور وہ وفاشعار بیوی ہے جسے اب بھی حسن سوختہ بخت کہتا ہے ، سادہ محبت، جس میں شب وروز کا بڑھتا ہوا کھوکھلا پن ہے اور ایسی تنہائی جس کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ۔ یہیں حسن ایک نتیجہ اخذ کرتا ہے:۔ ۔ ۔ / تجھے جس عشق کی خو ہے/مجھے اس عشق کا یارا بھی نہیں/تو ہنسے گی، اے جہاں زاد، عجب بات/کہ جذبات کا حاتم بھی مَیں/اور اشیا کا پرستار بھی مَیں/اور ثروت جو نہیں اس کا طلب گار بھی مَیں!/تو جو ہنستی رہی اس رات تذبذب پہ مرے/میری دو رنگی پہ پھر سے ہنس دے!/عشق سے کس نے مگر پایا ہے کچھ اپنے سوا؟" اس ٹکڑے کو تعبیر دیے بغیر ہم محض اس نظم کی خارجی سطح پر تیرتے رہیں گے ۔ تاہم اگر میری ابتدائی معروضات آپ کے ذہن میں تازہ ہیں تو مجھے کچھ دہرانے کی حاجت نہیں رہے گی اور یہ ٹکڑا اپنی تفسیر آپ ہو جائے گا ۔ نظم کا یہ حصہ بھی یہ سجھانے پر تمام ہوتا ہے کہ ہر عشق ایسا سوال ہوتا ہے جس کا جواب عشق کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا اور یہ بات تو پہلے ہی کہی جا چکی کہ حسن جس عشق کی بات کر رہا ہے وہ اپنے آپ کو پہچاننے کا نام ہے۔ اسی سے ذات کا سمندر آئینہ ہوتا ہے ، اور یہی کسی بھی فن کی انتہا ہوسکتا ہے۔

احباب حاشیہ : نظم کا تیسرےحصے اور پہلے دوحصوں کے بیچ بھی مجھے کوئی رخنہ نظر نہیں آیا۔ یہاں بھی حسن کوزہ گر ہی راوی کا سوانگ بھرے ہوئے ہے۔ اس حصے میں بھی حلب کی کارواں سرا کا حوض ہے اور رات وہ سکوت،جس میں حسن اور جہاں زاد تمام رات ایک دوسرے سے ہم کنار تیرتے رہے۔ حتی کہ وہ وہاں سے لوٹا تو یہ وہم بھی اس کے دل میں تَیرنے لگا تھاکہ ہو نہ ہو اس کا بدن وہیں حلب کے حوض ہی میں رہ گیاتھا۔ خیر یہ حسن کو جلد ہی خبر ہو گئی کہ ؛۔۔۔/"مَیں سب سے پہلے “آپ“ ہُوں/اگر ہمیں ہوں۔۔۔ تُو ہو او مَیں ہوں ۔۔۔۔ پھر بھی مَیں/ہر ایک شے سے پہلے آپ ہوں/اگر مَیں زندہ ہوں تو کیسے “آپ“ سے دغا کروں/کہ تیری جیسی عورتیں، جہاں زاد/ایسی الجھنیں ہیں/جن کو آج تک کوئی نہیں “سلجھ“ سکا/جو مَیں کہوں کہ مَیں “سلجھ“ سکا تو سر بسر/فریب اپنے آپ سے" اب وہی زمانہ کے فاحشہ ہونے والی بات دھیان میں رہے تو جس گوں کا علامتی کردار ن م راشد نے حس کوزہ گر کی صورت میں تراشا ہے وہ ، جہاں زاد(زمانے کی جنی ہوئی) کی قربت کے لطف اورلذتوں سے کیسے اپنے آپ کی نفی کر سکتا ہے ۔ معنیاتی سطح پر دیکھیں تو یہاں شاعر کسی صنفی تعصب کا مرتکب بھی نہیں ہوا کہ اس نے دنیا کو فاحشہ کے روپ میں دیکھا ہے، عورت کو نہیں۔ اچھا نظم میں دنیا کے ایک بیٹے کا کردار بھی آتا ہے لبیب ، یوں تعصب کا شائبہ سا بھی ، جو پڑھتے ہوئے قاری کو بدمزا کرتا ہے لبیب کے آنے سے کافور ہو جاتا ہے ۔ اس لبیب کا ذکرتمام رات جہاں زاد کےلب پر رہا تھا ، اس کے گیسوؤں کو کھینچنے اور لبوں کو نوچنے والے لبیب کا ذکر اپنی معشوق کے لبوں سے سن کر بھی اس کی طرف متوجہ رہنا ، زن فاحشہ ہوجانے والی اس دنیا کی طرف ہمارے اس قدر متوجہ رہنے سے عبارت ہے جس میں تخلیقی سطح پر وجود فنا ہوجایا کرتا ہے۔ اس تعلق کی بنیاد پر جو مثلث بنتی ہے اس کا قصہ نظم یوں کہتی ہے ۔ "جہاں زاد/ایک تو اور ایک وہ اور ایک مَیں/یہ تین زاویے کسی مثلثِ قدیم کے/ہمیشہ گھومتے رہے/کہ جیسے میرا چاک گھومتا رہا/مگر نہ اپنے آپ کا کوئی سراغ پا سکے۔۔۔/مثلثِ قدیم کو مَیں توڑ دوں، جو تو کہے، مگر نہیں/جو سحر مجھ پہ چاک کا وہی ہے اِس مثلثِ قدیم کا"۔ اسی حصے میں کوزے بنتے بنتے "تو" بھی بنتے ہیں اِس وصالِ رہ گزر کی نشاط حسن کوزہ گر کو ناگہاں نگل بھی جاتی ہے ۔ راشد نے حسن کوزہ گر کے علامتی کردار کی زبان سےعشق کو انتہائے معرفت کا نام دیا ۔ ۔۔۔"/مَیں ایک غریب کوزہ گر/یہ انتہائے معرفت/یہ ہر پیالہ و صراحی و سبو کی انتہائے معرفت۔" اس معرفت کے باوجود آدمی کا پھسلے چلے جانا ایک واقعہ ہے اور حسن کوزہ گر اس کی علامت۔ تاہم نظم کے اس حصہ کے آخر میں حسن کا باطن یوں جاگ اٹھتاہے جیسے خدا کے لاشعور میں بہشت جاگ اٹھتی ہے ، یہیں اس نے اپنے تخلیقی باطن کو ریت پر پڑے غنودہ کوزوں کے جاگنے سے تعبیر دی ہے ۔ ۔۔۔"/مِرے دروں میں جاگ اُٹھے/مرے دروں میں اِک جہانِ بازیافتہ کی ریل پیل جاگ اُٹھی/بہشت جیسے جاگ اُٹھے خدا کے لا شعور میں/مَیں جاگ اٹھا غنودگی کی ریت پر پڑا ہُوا/غنودگی کی ریت پر پڑے ہوئے وہ کوزے جو/۔ ۔ ۔مرے وجود سے بروں ۔۔۔/تمام ریزہ ریزہ ہو کے رہ گئے تھے/میرے اپنے آپ سے فراق میں،/وہ پھر سے ایک کُل بنے (کسی نوائے ساز گار کی طرح)/وہ پھر سے ایک رقص ِ بے زماں بنے/وہ روئتِ ازل بنے!

اب آئیے خواتین و حضرات ، نظم کے چوتھے اور آخری حصہ کی جانب ، جس کے بارے میں میرا ماننا ہے کہ یہاں راوی دو ہو گئے ہیں ۔ تاہم یہیں میں اسے نظم کی خامی نہیں مانوں گا کہ نظم میں باقاعدہ اس کا جواز موجود ہے ۔ میں اوپر حسن کوزہ گر کو راوی نہیں بلکہ ایسا کردار کہتا آیا ہوں جس نے روای کا سوانگ بھرا ہوا ہے ؛ ایسا کہنے کا جواز اب میں آپ کے سامنے رکھ سکتا ہوں ۔ نظم کے چوتھے حصہ میں اعلان ہورہا ہے کہ فی الاصل اس نظم کہانی کا راوی خود شاعر ہے ، جو پہلے حسن کوزہ گر کے وجود میں بیٹھا ہوا تھا۔ : "جہاں زاد، کیسے ہزاروں برس بعد/اِک شہرِ مدفون کی ہرگلی میں/مرے جام و مینا و گُلداں کے ریزے ملے ہیں/کہ جیسے وہ اِس شہرِ برباد کا حافظہ ہوں/حَسَن نام کا اِک جواں کوزہ گر ۔۔۔ اِک نئے شہر میں ۔۔۔/اپنے کوزے بناتا ہوا، عشق کرتا ہوا/اپنے ماضی کے تاروں میں ہم سے پرویا گیا ہے/ہمیں میں (کہ جیسے ہمیں ہوں) سمویا گیا ہے/کہ ہم تم وہ بارش کے قطرے تھے جو رات بھر سے/(ہزاروں برس رینگتی رات بھر)/اِک دریچے کے شیشوں پہ گرتے ہوئے سانپ لہریں/بناتے رہے ہیں/اور اب اس جگہ وقت کی صبح ہونے سے پہلے/یہ ہم اور یہ نوجواں کوزہ گر/ایک رویا میں پھر سے پروئے گئے ہیں۔،،

احباب حاشیہ ! اس چوتھے حصہ میں اور درج بالا ٹکڑے میں راشد ماضی کے اپنے تراشے ہوئے کردار حسن کوزہ گر کا کہانی کے راوی سے معزول کرتا ہے تاہم اس کا قرینہ موجود ہے اور اس کا جواز بھی ۔ اب وہ اپنے زمانے کے ساتھ جڑتا ہے ، ہزاروں سالوں بعد، کہنہ پرستوں کے انبوہ کو دیکھتا ہے یہ ماضی پرست تہذیبی اقدار اور اس کی علامتوں کی روح سے آگاہ نہیں ہیں ۔ صاحب یہی وہ مقام ہے جہاں راشد کو ماضی بامعنی نظر آتا ہے۔ یہیں راشد نے اس درد رسالت کے روز بشارت کو یاد دلایا،جسے بہ ہر حال جام و مینا کے تشنہ لب تک پہنچناہے ۔ ایک سچے تخلیقی آدمی کے مقدر میں ہے کہ وہ اس درد رسالت کو سہے جو راشد نے سہا ہے اور اس سے ایک نتیجہ اخذ کرکے اس نظم کو اردو ادب کی بڑی نظموں میں رکھ دینے کے قابل بنا دیا ہے۔" یہ کوزوں کے لاشے، جو اِن کے لئے ہیں/کسی داستانِ فنا کے وغیرہ وغیرہ/ہماری اذاں ہیں، ہماری طلب کا نشاں ہیں/یہ اپنے سکوتِ اجل میں بھی یہ کہہ رہے ہیں/وہ آنکھیں ہمیں ہیں جو اندر کھُلی ہیں/تمہیں دیکھتی ہیں، ہر ایک درد کو بھانپتی ہیں/ہر اِک حُسن کے راز کو جانتی ہیں/کہ ہم ایک سنسان حجرے کی اُس رات کی آرزو ہیں/جہاں ایک چہرہ، درختوں کی شاخوں کی مانند/اِک اور چہرے پہ جھُک کر، ہر انسان کے سینے میں/اِک برگِ گُل رکھ گیا تھا/اُسی شب کا دزدیدہ بوسہ ہمیں ہیں" لیجئے صاحب نظم یہاں تمام ہوئی معنوی لحاظ سے پوری طرح مربوط اور مکمل ، میں مانتا ہوں کہ عورت کے بارے میں راشد کے خیالات میں ایک طرح کی کجی پائی جاتی ہے مگر اس نظم میں وہ اس تہمت سے بھی بچ گیا ۔ یہ بھی مانتا ہوں کہ نظم جو معنیاتی نظام بناتی ہے وہ راشد کی اس فکر سے انحراف سے عبارت ہے جس کا شعوری سطح پر وہ پرچار کرتے رہےتاہم میں سمجھتا ہوں کہ یہ نظم تخلیقی سطح پر راشد کے باطن سے منحرف نہیں ہوئی ہے ۔ راشد نے اس نظم میں ماضی، روایت اور تہذیب سے ایک بامعنی تعلق قائم کیا ہے ۔ ایسا تعلق کہ جو مستقبل گیر ہو سکتا ہے ۔

ستیہ پال آنند کی نظم "اے حسن کوزہ گر" کے باب میں:

احباب حاشیہ ، یہ میں پہلے ہی کہہ آیا ہوں کہ اس نظم کی تیکنیک بھی لگ بھگ وہی بنتی ہے جو ، آنند جی نے "مجھے نہ کر وداع" میں برتی ہے ۔ وہاں اس کا اعلان نہ کیا گیا تھا کہ ان کی نظم میں" رید کتیو اید ابسرد م" والی تکنیک استعمال ہوئی تھی ۔ تاہم یہ اطلاع اس نظم کےپڑھنے والوں کو فراہم کر دی گئی ہے۔ نظم کے علاوہ اگر کوئی متن نظم کے ساتھ نتھی کردیا جائے تو یقیناً اس کا کوئی مقصد ہوتا ہے اور جہاں تک میں سمجھا ہوں یہاں اس نوٹ کا مطلب اس نظم کو ایک خاص تناظر دینے کا ہے ۔ میں نہیں سمجھتا کہ "اے حسن کوزہ گر" لکھتے ہوئے نظم سے وہ معنی اخذ کیے گئے ہیں جو راشد کے ہاں ہوں گے ، یا جو اس فن پارے سے پھوٹے پڑ رہے ہیں اور شاید اس تیکنیک کے تحت آنند جی اس کے مکلف بھی نہیں رہے ، لہذا ہم آنند جی کی نظم پر بات کرتے ہوئے راشد کی نظم کے صرف ان علاقوں کی طرف اشارہ کریں گے جو آنند جی کی نظم کے تصرف میں رہے ہیں ۔ "اے حسن کوزہ گر" میں عین آغاز میں ہی راشد کی نظم کے اس راوی کی شناخت کا سوال اٹھایا گیا ہے :"اے حَسن کوزہ گر/کون ہے تو؟ بتا/اور” تُو“ میں بھی شامل ہے، ”ہاں“ اور ”نہیں"/تُو جو خود کوزہ گر بھی ہے، کوزہ بھی ہے/اورشہر حلب کے گڑھوں سے نکالے ہوئے/آب وگل کا ہی گوندھا ہوا ایک تودہ بھی ہے/جو کبھی چاک پر تو چڑھایا گیا تھا، مگر/خشک کیچڑ سا اب سوکھتے سوکھتے/اپنی صورت گری کی توقع بھی از یادِ رفتہ کیے/چاہ نیساں کی گہرائی میں/خواب آلودہ ہے" یہ نظم کا آغاز ہے ، اور عین آغاز سےیوں لگتا ہے کہ اس تیکنیک کے حوالے سے وہ جو کہا گیا ہے کہ شاعر نے راشد کی نظم کے سامنے آئینہ رکھا ، عام آئینہ نہیں بلکہ میلوں ٹھیلوں والا چہرے کے چوکھٹے کو گڈمڈ کر دینے والا آئینہ، تو ایک لحاظ سے درست ہی کہا گیا تھا ۔ وہ یوں کہ ایک تو آنند جی نے اس کردار کوراشد کی نظم کے مجموعی تناظر میں نہیں دیکھا ، بس اتنا دیکھا ہے جتنا کہ اس آئینے کے فریم کے اندر سما گیا ہے ۔ دوسرے یہ کہ اس کے باطن میں موجود معنیاتی نظام کو مدنظر رکھنے کی بہ جائے صرف اس کے خارج میں موجود واقعاتی سطح سے معاملہ رکھا ہے ۔ آئینہ بھی باطن سےسروکار نہیں رکھتا وہ دکھاتا جو سطح سے اخذ کرتا ہے۔ اور اب چوں کہ یہ آئینہ " رید کتیو اید ابسرد م" کی تیکنیکی زنگار والا ہے لہذا مبالغہ کی حد تک تضادات کو اخذ کیا گیا ہے ۔ جس طرح پکاسو کو حق تھا کہ وہ تصویر بناتے ہوئے چہرہ گڈمڈ کر دیے ، اتنا کہ اصل کہیں پس منظر میں چلا جائے اورتھامس ناسٹ کو حق تھا کہ وہ کیری کیچر بناتے ہوئے نقل بہ مطابق اصل نہ بنانے، اسے مضحک بنادے ، آنند جی کو بھی حق ہے کہ " رید کتیو اید ابسرد م"کے وسیلے وہ تضادات جو وہ متن کے اوپر سے اپنی صواب دید کے مطابق اٹھائیں اور معنی اوندھا دیں ۔ تو یوں ہے کہ انہوں نے نظم کےخارج میں موجود شواہد کو لے کر باطنی معنوں کو اوندھا کر رکھ دیا ہے۔

احباب گرامی، کیا اس پوری نظم میں جنس کو اس سطح پر برتا گیا ہے جس سطح پر آنند جی کی نظم اسے زیر بحث لاتی ہے ، شاید نہیں بلکہ یقیناً اس کا جواب ہوگا نہیں، بالکل نہیں۔ میں نہیں کہتا کہ راشد کا مسئلہ کبھی جنس نہیں رہا، ضرور رہا ہے اور شاید مریضانہ حد تک یہ رویہ اس کی نظموں میں بھی ظاہر ہوا ہے مگر بات اس نظم کی ہو رہی ہے ایک ایسی نظم جس کے تخلیقی وفور نے اس کے صنفی تعصب کو بھی پچھاڑ دیا ہے ، وہاں ایک رات ، صرف ایک رات والی جنس جو آخر تک عورت کے وجود سےمحض ایک الجھن سے زیادہ شاعر کو کچھ نہیں دے پاتی ، کیسے اس سارے مکالمے کا جواز ہو سکتی ہے جو "اے حسن کوزہ گر" میں انتہائی مشاقی سے آنند جی نے قائم کر دیا ہے کہ پڑھتے ہوئے مفہوم کا یوں اوندھایا جانا ہی اس تخلیق پارے کو الگ دھج کافن پارہ بنا دیتا ہے ۔خود آنند جی ہی کے مطابق:

"جس میں حسن کوزہ گر کومیری نظم میں براہ راست مخاطب کیا گیا ہے، وہ ان سطور کے بارے میں ہے جو اس کے "مردانہ پن" پر دلالت کرتی تھیں۔ یعنی "ریڈکتیو اید ابسردم" کے طریق کار کے الٹ طریق کار "ایکزیجریشن اید ابسردم" کو بروئے کار لاتے ہوءے "مردانہ پن کے نہ ہونے" پر دلالت کرتی تھیں۔ یہ سطریں دیکھیں۔اے حَسن کوزہ گر/ بات کر مجھ سے، یعنی خود اپنے ہی ہم زاد سے / اور ڈر مت حقیقت سے اپنے بدن کی /کہ ڈر ہی ترے جسم و جاں کو ہے جکڑے ہوئے /تشنگی جاں “کی، یعنی خود اپنی ہی مٹھی میں پکڑی ہوئی / ادھ مری خشک جاں / العطش العطش ہی پکارے گی اب آخری سانس تک /کیوںکہ تو جسم اپنا تو اس ’حوض بستر‘ میں ہی چھوڑ آیا تھا / جس میں جہاں زاد کے جسم کی/گرم ، مرطوب دل داریوں کی تمازت/ابھی تک تڑپتی ہے لیٹی ہوئی //اور جنّت کے موذی سی بل کھاتی چادر کے بد رنگ دھبوں میں/۔۔۔ لپٹی ہوئ
اس سے آگے کی سطریں تو حقیقت کو بیان کرنے کے فرض کی ادائی کچھ زیادہ ہی صراحت سے کرتی ہیں۔ ایک شب ہی حسن صرف کافی تھی تیرے / ہنر کی نمائش کی یا امتحان کی، مگر / تیری پسپائی تیرا مقدر بنی / اور کرتا بھی کیا ؟ / سب بنے، ادھ بنے / "سارے مینا و جام و سبو اور فانوس و گلدان" تو / بس وہیں چاک پر "ان جنی اپنی مخلوق کو ترک کر کے / حلب چھوڑ کر / سوئے بغداد کیوں گامزن ہو گیا؟۔۔۔۔۔اب سوال یہی رہ جاتا ہے کہ کیا حسن کوزہ گرکا یہ روپ نون میم راشد کا وہ مخفی روپ ہے جسے وہ چھپائے ہویے پہلے ایران اور پھر لنڈن، نیو یارک، میں پھرتا رہا۔ لیکن اس نے اسے چین نہیں لینے دیا، اور تخلیق کے دھارے میں بہتے ہوءے اس نظم میں سطح پر ابھر آیا۔"

اس طویل اقتباس سے آپ احباب نے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ آنند جی راشد کے حسن کوزہ گر سے مکالمہ کرتے کرتے، اپنی تخلیق سے پھوٹنے والے اوراپنی نظر سے دیکھے ہوئے راشد کو کم کم جب کہ ساقی فاروقی اور دوسروں کی زبان سے سنے ہوئے راشد کو یہاں زیادہ برتا ہے ۔ ن م راشد کا حسن کوزہ گر اپنے "آپ" کی طرف پلٹتا ہے اس کے یوں پلٹنے کو بہ سہولت مثبت معنی بھی دے جاسکتے تھے مگر جس راشد سے آنند جی کا اس تیکنیک کے توسل سے معاملہ ہو رہا ہے، اس کے سطح پر سے اخذ کیے گئے معانی کو ہی متحرک کیا جاسکتا تھا ۔

اچھا' ماقبل شاعر کو، اس کی فکر اور کردار کو اس طرح دیکھنا کہ اچھا بھلا چہرہ کچھ کا کچھ ہو جائے خود راشد کو بھی عزیز رہا ہے ، اس نے اقبال سے لگ بھگ ایسا ہی معاملہ کر رکھا ہے ۔ اقبال نے یقین محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم کو جہاد زندگانی میں مردوں کی شمشیر قرار دیا تو راشد نے کہا تھا :

اے فلسفہ گو/ کہاں وہ رویائے آسمانی /کہاں یہ نمرود کی خدائی/ تو جال بنتا رہا ،جن کے شکستہ تاروں سے اپنے موہوم فلسفے کے/ہم اس یقیں سے،ہم اس عمل سے، ہم اس محبت سے/آج مایوس ہو چکے ہیں" ۔

یا پھر "نیادور"میں چھپنے والی نظم "پریڈ" سے برآمد ہونے والا اقبال وہ نہیں ہے ، جو اپنی تحریروں میں نظر آتا ہے بلکہ وہ ہے جسے راشد نے اپنے تئیں اخذ کیا ہے:

"کرسمس کے دن/اقبال/اپنے گھر کے چبوترے پر کھڑا/روحوں کی پریڈ سے/ سلامی لے رہا تھا/ سب کے پائوں اکھڑے ہوئے تھے/ سوائے رومی کے/سوائے نیٹشے اور برگساں کے/ سوائےچند نیک دل بادشاہوں کے/ اقبال غصے میں بھرا ہوا /گھر کے اندرچلا گیا/اور دوبارہ/اپنی مومن بتیاں بنانے لگا/میری مومن بتی کیوں بجھ گئی ؟/ اسے پھر سے کیسے روشن کروں؟۔"

جس طرح راشد نے اقبال کے ہاں سے "مومن بتیاں" برآمد کر لی تھیں اسی طرح آنند جی نے راشد کے جہاں زاد جیسی عورتوں کو نہ" سلجھ" سکنے پر جھن جھنانے کو اور اپنے آپ کی طرف پلٹنے سے "مردانہ پن کے نہ ہونے" کو برآمد کر لیا ہے۔آنند جی نے" ریدکتییو اید ابسردم" کی تھیوری کے اطلاق سے راشد کو جس نہج سے عریاں کرنا چاہا تھا کر دیا اور میں اسے بھی مانتا ہوں کہ شاعر نے اپنےذہنی تجربہ سے اپنے ذہن میں عیاں ہو نے والے منظر سے چلتے ہوئے اور اپنے مفروضات کو تخیل کے خاکے میں ڈھالتے ہوئے اس عریانی سے الفاظ کے ملبوس کی طرف سفر کیا تو لائق توجہ فن پارے میں ڈھال لیا ہے ۔

احباب نظم میں راشد کی "تشنگی جاں ہو"یا "نو برس "بھٹکنے کا حوالہ ، عشق کے استعارے نہیں بنتے ایسا عکس بنتے ہیں جس میں جنسی تشنگی کا شاخسانہ ہو جاتے ہیں :"ہاں، ترا اس سفر پر نکلنا ضروری تھا/بغداد تھی جس کی منزل، (سکونت فقط نو برس کے لیے)/ہندسہ ’نو‘ کا گنتی میں اک رکن ہے، اک مفرد عدد/اے حَسن کوزہ گر/تو بھی ”الجھن“ ہے ان عورتوں کی طرح/جن کو سلجھا کے کہنا کہ ہم نے انھیں پا لیا/واہمہ ہے فقط/کیوں کہ میرا بدن جو کہ تیرا بھی تھا اور کوزوں کا بھی/تو وہیں حوض میں ڈوب کررہ گیا تھا اسی رات/جب ہم بچھڑنے سے پہلے ملے اور گم ہو گئے/تجھ کو اتنا توشاید پتا ہے کہ شب جوترے ذہن میں/ڈائنوں سی کھڑی ایک عشرے سے اک سال کم/تجھ کو کیوں، اے حسن، پورے نو سال دھوکے میں رکھ کر/بلاتی رہی ہے حلب کی طرف/وہ تو اب ایک”لب خند“ عورت ہے، لڑکی نہیں/۔۔۔"

یہ جو کہا جا رہا ہے کہ آنند جی نے اس نظم کے ذریعہ راشد کی نظم کے حوالے سے تنقیدی سوالات قائم کیے ہیں ۔ اچھاآنند جی نے اپنی نظم پر بات کرتے ہوئے بہت سے تنقیدی مباحث کو چھیڑا ایک ایک کرکے کئی تھیوریوں کو گنوادیا مگر نظم کے اوپر قائم کیے گئے نوٹ ، اور نظم کے قرینے کو دھیان میں رکھا جائے تو ہم اپنے آپ کواپنے آپ کو راشد کی نظم سے برآمد ہونے والے کسی اور معنیاتی نظام کی بہ جائے ان ہی معنوں سے معاملہ کرنے کے پابند ہو جاتے ہیں ، جو اس تیکنیک کے خاص وسیلے سےآنند جی کی نظم کےمتن سے برآمد ہو رہے ہیں ۔ تو یوں ہے آنند جی نے اسے خوب رواں دواں بنا ہے ، قصے کی طرح دلچسپ بنایا ہے اور اس میں راشد کی جنس کی متھ سے نہ صرف خوب خوب لذت برآمد کی ہے ، انسانی رشتوں کے حوالوں سے اور عورت مرد کے حوالوں سے ایک نقطہ نظر بھی قاری تک منتقل کیا ہے جو راشد کے حوالے سے بنائی ہوئی متھ کو رد کرتا ہے ایک مقدمہ قائم کرتا ہے اور راشد کو مجرم بنا ڈالتا ہے۔ اسی جہاں زاد سے شاعر اپنی رسم و راہ کی صورت دکھاتا ہے تو راشد کی نظم کی فضا واقعی پس منظر میں چلی جاتی ہے: ۔۔۔/ہاں، جہاں زاد سے میری بھی رسم و رہ ایک مدّت سے ہے/اور فن کے تجاذب کی تحریک بھی مجھ کو دی ہے کسی ایک ”نادان“ نے/اپنی کچی جوانی کی نا پختہ پہلی بلوغت کے دن/جب وہ ”نادان“ تھی/میں بھی نادان تھا/نا رسا آس تھی/بے طلب پیاس تھی/چار سو یاس تھی/اس زمانے میں تو/بس ”گماں“ ہی ”گماں“ تھی مری زندگی/کچھ بھی ”ممکن“ نہ تھا/ما سوا اک گزرتی ہوئی رات کے/صبح آئی تو پھر یوں لگا/جیسے خورشید اپنے افق سے فقط ایک لمحہ اٹھا/اورسارے ”طلوعوں“ کی دیرینہ تاریخ کو بھول کر/پھر افق میں وہیں غوطہ زن ہو گیا/۔۔۔"

جی ،زبان کا مواد اور فضا بے شک راشد کی سہی مگر جس طرح آنند نے اسے اپنے وجود اور اپنی ذات سے جوڑ ا ہے ، سب کچھ مختلف اور نیا نیا ہوگیا ہے۔ آخر میں آنند جی کا یہ سوال، ایک فیصلہ کی صورت سامنے آتا ہے کہ غالباً راشد کا "حسن کوزہ گر" کی تخلیق کا مقصد یہ تھا کہ کوزے پکانے والی بھٹی کی سوئی ہوئی راکھ سے چند سلگتےہوئے انگار ے تلاش کیے جائیں اور ایک کہانی گھڑلی جائے ۔ راشد نے کہانی تو گھڑ لی مگر اسے وہ پذیرائی نہ ملی پائی جو اس طرح کے قصوں کا مقدر ہو جایا کرتی ہے ۔ ۔۔/ہاں، حسن کوزہ گر کی جہاں زاد کو/وہ رسائی نہ مل پائی جس کی وہ حق دار تھی/اور راشد کا فن/لوک قصّوں، اساطیر یاعشق کی/داستانوں کے فن سے بہت دور تھا/یہ بھی سچ ہے کہ راشد کی یہ چار نظمیں بہت خوب ہیں/پر مورخ کی یا قصّہ گو کی نہیں"

تو یوں ہے کہ وہ تفہیم جو میں نے راشد کی "حسن کوزہ گر" کے باب میں کی، اسے بھول جائیں اور آنند جی کی" ریدکتییو اید ابسردم" کی تھیوری کے اطلاق سے تخلیق ہونے والی "اے حسن کوزہ گر" کی روشنی میں اسے دیکھیں تو یہ نظم وہ رسائی پانے میں ناکام نظر آتی ہے ۔ وہ تو ہم سب کا اس کی طرف توجہ سے دیکھنا کو ئی کم اہم واقعہ نہیں ہے۔

احباب حاشیہ! ضروری نہیں ہوتا کہ ہم اس فکری نظام کو کہ جو کسی فن پارے میں سے چھلک رہا ہوتا ہے اسے مان لیاجائے ، اس منظق کو بھی تسلیم کرلیں جو اس فن پارے کو تخلیق کرنے والے کو عزیز ہوگئی تھی مگر جس قرینے کا وہ فن پارہ بنا ہے اپنے فضا کے اعتبار سے اور اپنی جمالیات کے اعتبار سے ، اسی سے اسے آنکنا چاہیئے ۔ "اے حسن کوزہ گر" اس اعتبار سے ایک کامیاب اور نمایاں نظم ہے کہ وہ اردو کی ایک نمایاں اور کامیاب اور بڑی نظم سے مکالمہ کرتی ہے ، اس کی تخلیقی فضا سے جڑتی بھی ہے اور اس کے آفاق وسیع بھی کرتی ہے ، اس کے معانی کی ایک جہت میں" اضافہ" کرکے نئے معنی ڈھالتی ہے اور اتنی اہم ہو جاتی ہے کہ جب بھی "حسن کوزہ گر" کا حوالہ آئے گا ، اس " اے حسن کوزہ گر" کو بھی یاد کیا جائے گا ۔

Monday, August 15, 2011

صدارتی خطبہ :حاشیہ بہ سلسلہ محمد یامین کی نظم ” قصہ خوانی




احباب گرامی : میرے لیے”حاشیہ”کے تحت “نظم کے نئے معمار” کے سلسلے کے اولین اجلاس کی صدارت اگرچہ اعزاز کی بات ہے تاہم یہ واقعی بہت کٹھن رہی اور میں اس پرخوش بھی ہوں کہ تخلیقی عمل کی تفہیم اس سارے عرصے میں، جس طرح فن پارے سے جڑ کربات ہورہی تھی اور جس سنجیدگی سے ہو رہی تھی اس نے مجھے بہت کچھ عطا کیاہے۔ جناب ظفر سید پہلے تو آپ کا شکریہ کہ آپ نے اتنا اہم اور سنجیدہ فکر تخلیق کاروں کا تنقیدی فورم مہیا کیا ۔ ایک بار پھر یاد دلا دوں کہ اردو نظم کے عہد حاضر کے نمایاں نام اس فورم کا حصہ ہیں جن سے تخلیقی عمل کو سمجھنے کا نادر موقع میسر ہو رہا ہے۔ میں نے توجہ سے سب کو سنا اور واقعی بہت کچھ سیکھا ۔ تنقید کو بھی تخلیق کاروں اور خود تخلیق سے سیکھنے ، اخذ کرنے اور اس کے فنی جمال اور معیناتی نظم کو سمجھ کر نئے تناظر سے جوڑنے کا چلن سیکھنا چاہیے۔ تنقیدی عمل کا منصب تخلیقی عمل کے احترام ہی سے معتبر ہے۔ ہو سکتا ہے میری یہ بات ان دوستوں کو اچھی نہ لگے جو اس باب میں بہت آگے تک جا چکے ہیں تاہم میں یہ بات انتہائی خلوص سے کہہ رہا ہوں اور درد مندی کے ساتھ اپیل کرتا ہوں کہ ان کی صلاحیتوں کی اردو ادب کو ضرورت ہے، اسے پڑھیں، اسے پرکھیں اور اگر اس باب میں آپ کا اپنا محبوب تنقیدی راستہ رکاوٹ بن رہا ہو تو اپنا وزن تخلیق کے پلڑے میں ڈالنے سے مت ہچکچائیں۔
فورم کے معزز ممبران ! میں کئی بار کہہ آیا ہوں کہ کسی بھی فن پارے کا تجزیہ کرنے سے کہیں بہتر یہ ہوتا ہے کہ اس کی تفہیم اورتعبیر کی جائے ۔ تجزیہ جزو جزو کرکے فن پارے کو دیکھنے والا عمل ہے اور میں نے اچھے اچھے تجزے دیکھے ہیں جن میں فن پارے کی نامیاتی وحدت سرے سے توجہ ہی نہ پا سکی تاہم تفہیم اور تعبیر کا بنیادی وظیفہ ایک فن پارے کی وحدت کو دریافت کرنا ہوتا ہے۔ وحدت میں ڈھلنے سے یہ قطعاً مراد نہیں ہے کہ فن پارہ تخلیق کار کے دیے ہوئے معنی کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے ۔ جب ہم ادب کی بات کر رہے ہیں تو یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ تخلیق نام ہی اس کا ہے کہ اس کے مرکز میں موجود احساس کی لو، معنیاتی نظام اور جمالیاتی دھارا آنے والے زمانوں میں کتنی نمو پاتا ہے اور کس قدر فزوں ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں ہمارے ایک بہت اچھے نظم نگار دوست نے جب یہ کہا تھا کہ نظم وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں الفاظ ختم ہوجاتے ہیں تو میں نے نہایت ادب سے اختلاف کی جسارت کرتے ہوئے کہا تھا کہ نظم وہاں سے شروع نہیں ہوتی جہاں الفاظ ختم ہو جاتے ۔ تخلیق کا چلن یہ ہے کہ اس میں کہی جانی والی بات، بیان کیا جانے والا احساس اور معنیاتی نظام لفظوں کی اسی ترتیب کا محتاج رہتا ہے جس میں کسی تخلیق کار نے اسے اپنے تخلیقی عمل کے دوران ترتیب دیا ہوتا ہے ۔ اب اس ترتیب کو توڑ کر آپ جو معنی اخذ کریں گے وہ تخلیق کا بدل نہیں ہو سکتے ہیں آپ کو جو بھی معاملہ کرنا ہے اسی تخلیق سے کرنا ہے۔ اور جب معاملہ تخلیق سے ہو تو تنقید خود مکتفی کیوں کر ہو سکتی ہے۔
خیر، میں محمد یامین کی نظم ” قصہ خوانی ” کی طرف آنا چاہتا ہوں ۔ جناب ستیہ پال آنند، جناب علی محمد فرشی، جناب جاوید انور،جناب رفیق سندیلوی، جناب ناصرعباس نیر، جناب معید رشیدی، جناب ظفرسید، جناب عمران شاہد بھنڈر اور آخر میں جناب محمد یامین نے مکالمہ میں بھرپور حصہ لیا اور اتنا کچھ کہہ دیا ہے کہ میرے لیے شاید اس میں اضافہ ممکن نہیں رہا ۔ تاہم مجھے چوں کہ کچھ نہ کچھ کہنا ہے تویوں ہے کہ میں اس باب میں چند اشارے کرکے رخصت چاہوں گا:
نظم نگار نے بہ جا طور پر اس نظم کو پرازمعنی بنانے کے لیے پشاور کے قصہ خوانی بازار کو چنا ۔ اور اپنے پڑھنے والوں کو اسی سے خاص ہونے والی فضا کے قریب تر کر دینے کے لیے مشک بار افغانی قہوے کے رسیلے گھونٹ میں تلخ باتوں کو گھل مل جانے دیا۔ یہ جو اوپرمیں تلخ ہو کر اس جانب اشارہ کر آیا ہوں کہ آخر شاعرنے دودھ والی کالی چائے کیوں نہ لکھ دیا وغیرہ وغیرہ تو اس کا سبب یہ ہے میں اسے تنقید میں مباح نہیں سمجھتا کہ اپنے نقطہ نظر تک فن پارے کو لے جانے کے لیے چند مرضی کے الفاظ چن لیے جائیں اور ایک فضا جو اس فن پارے میں بن رہی ہے اسے لائق اعتنا نہ جانا جائے۔ اس نظم میں روایتی چائے خانہ یا ٹی ہائوس آ سکتا تھا مگر شاعر اسے نہیں لایا تو اس کا سبب یہ ہے کہ شاعر لفظوں کے تہذیبی معنوں سے جڑنے کو کار فضول نہیں سمجھتا اورجانتا ہے کہ لفظ صرف لغوی معنی اورثقافتی نشان ہی نہیں ہوتا تہذیبی مظہر ہو جانے کی قوت بھی رکھتا ہے۔ اسی قوت سے معاملہ کرکے نظم نگار نے معنی کی ایک سے زاید سطحوں کو متحرک کر دیا ہے جنہیں ہمارے تخلیق کار دوستوں نے بہ جا طور پر نشان زد کیا ہے۔ قصہ خوانی بازارجہاں قہوہ خانوں اور خشک میوہ جات کے سبب مشہور ہے وہاںیہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہاں دور دراز سے ہو کر تاجر آتے اور جن جن ملکوں اور شہروں سے وہ ہو کر آتے تھے ان کے قصے بھی ساتھ لے آیا کرتے ۔ مگر یہ تب کی بات ہے کہ جب یہ سارا عمل تہذیبی دھارے سے کٹا ہوا نہیں تھا یہی سبب ہے کہ اس کے اندر قصہ خوانی کی روایت لائق احترام تھی۔ تب فرد فرد سے جڑا ہوا تھا اور بازاری کلچر معاشرہ کی سمت متعین نہیں کرتا تھا۔ بازار بھی تہذیبی مظاہر کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا یہی سبب ہے کہ قصہ خوانی کی روایت نے اس بازار کو اپنا نام دیا ۔ اسی روایت نے ایک بازار کو زندگی کی ہمہ ہمی سے جوڑ دیا۔ جی اس شہر کو جس میں ایک یادگاری چوک ہے۔ نظم میںیادگاری چوک آیا ہے لائل پور کا گھنٹہ گھر یا خود یہیں کے درہ خیبر کا حوالہ نہیں آیا تو اس کا بھی ایک سبب ہے ۔ یادگاری چوک کی اپنی ایک روایت ہے اس کا ذکر میں قبل ازیں ایک نوٹ میں کر آیا ہوں ، دہرائوں گا نہیں۔ بس اتنا کہوں گا کہ زندگی کا ایک مظہر وہ میلے بھی تھے جو کبھی یہاں لگا کرتے تھے ۔ تاہم اس وقت کا قصہ خوانی بازار ہو یا یادگاری چوک کی گہماگہمی، اس سب کو نظم نگار نے “ہجوم شوروشر” نہیں کہا ہے۔ وہ ایک تہذیبی زندگی کا نمائندہ بازار تھا جو تخلیق سطح پر فرد کو معاشرے سے جوڑ رہا تھا مگر وقت گزرنے کے بعد نظم بتا رہی ہے کہ اب وہی بازار تہذیب کا قاتل اور ہجوم شور و شر کا محبوب علاقہ ہو گیا ہے۔
ایسے میں تخلیق کار کئی سوالات کے ساتھ سامنے لاتا ہے ۔ میں نہیں سمجھتا کہ نظم کہیں بھی مایوسی اور ناامیدی کو شعار کرتی ہے۔ اگرچہ سانحہ عظیم ہے۔ اور صورت احوال تلخ ، مگر قصہ گوئوں کے آخری نمائندے کا اس سانحے کے مقابل ہوکرچپ ہو جانا اور ساری تلخی کو مشک بار رسیلے گھونٹ میں گھول کر پی جانے کا عمل اسے اپنی رہی سہی تہذیبی مظاہر کے ساتھ جڑ کر ضبط کرنے اور نئے امکانات پر غور کرنے کی طرف راغب کر رہا ہے۔ یہاں کا ‘چپ’ رہنا ایسا نہیں ہے کہ اسے گویائی سے بھڑا کر اس سے ایسی فلسفیانہ توجیح منسوب کر دی جائے جو نظم کے اندر سے کوئی گہری معنویت پیدا کرنے سے قاصر رہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ نظم کے ابتدائی حصہ کو اس کے اختتامی حصہ کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ بے رنگ اکھڑتی چھال، چاقو سے کندہ نام، وقت کی غفلت، زخم لگانے اور زخم کھانے والے، اس پورے زمانی عرصہ میں ، کہ جو تخلیق کے کلاوے میں ہے، کی کہانی سنائی جا رہی ہے۔ تاہم میں اس نظم سے یہاں بھی مثبت معانی کشید کر رہا ہوں ۔ کہ یہاں شاعر کسی کو فتح یاب قرار دینے کی بہ جائے، ایک سوال اچھال رہا ہے۔ وہ سوال جس کا جواب آنا بہ ہر حال ابھی باقی ہے۔ ۔ سوال یہ ہے کہ شریں گل کی سبز آنکھوں جو خوب ہیں کیا انہیں خاک کا رزق ہونا ہے یا یہ بچ جائیں گے ۔ میں سمجھتا ہوں یہاں شیریں گل کی سبز آنکھوں کا سوال اٹھانے والا بھی خود شریں گل ہی ہے ، قصہ گوئوں کا آخری نمائندہ، ایک تہذیب کی علامت، بید مجنوں کی طرح کھڑاہونے والاافسردہ اور آزدہ شخص ، جو یوں اکیلا ہو گیا ہے کہ اس کے اردگرد سے اس کے اپنے ماضی کی تہذیب کا حصہ ہو کر گم ہو گئے ہیں۔ تاہم مجھے یہاں سے بھی یوں سبز آنکھوں سے امید جھلک دے گّئی ہے کہ انتہائی ناموافق حالات میں اس سوال کا بچ جانا بہ جائے خوداس قصہ گو کے امید سے بندھے ہونے کی علامت بن جاتا ہے۔
اچھا، یہاں تک بات کر چکا ہوں تو کہتا چلوں کہ اس نظم کا ایک وسطی حصہ بھی ہے۔ اگر نظم کا آغاز اور انجام خیال اور احساس کو ساتھ ساتھ لے کر چلتے ہیں تو یہ وسطی حصہ شاعر کو دانش کی روایت سے جوڑ دیتا ہے۔ ایک فن کار کا دانش کی سطح پر درپیش صورت حال کاتجزیہ یہ ہے کہ قصہ گو ملکوں ملکوں، شہروں شہروں گھوما، اس نے شہروں اور قوموں کا مطالعہ کیا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ تاریخ کے نقشے میں جن شہروں کی شہرت گونجتی ہے وہ خموشی کے اسی ازلی رنگ سے ظاہر ہوئے ہیں جن رنگوں سے اس ہجوم شور و شر کو شنا سائی نہیں ہے ۔ آپ کہیں گے میں نے نظم کی لائنوں کو محض نثر بنا دیا ۔ ہاں ، آپ کا کہا بہ جا ، مگر واقعہ یہ ہے کہ میں نے اس حیلے سے نظم کے متن کے اندر دھڑکتے دل جیسے معنی کو قریب سے محسوس کرنے کی طرف آپ کوراغب کرنا چاہا ہے۔ جہاں قصہ گو ہے ، وہ تاریخ کے نقشے میں اپنا وجود اجالنے والے شہروں کا سا نہیں رہا ہے۔ جی ،یہاں حوالہ بننے والے وہی شہر ہیں، جو اس نے تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے دیکھے۔ اور جن کے قصے قصہ خوانی میں نسل در نسل سنائے جاتے رہے تھے ، یہ شہر بھی کبھی ان جیسا تھا تاہم اس ہجوم شور شر کے بیچ ایک تخلیق کار کی موجودگی کے ایک معنی تو یہ ہو سکتے ہیں کہ ، وہ جو ساری صورت حال کا خاموشی سے جائزہ لے رہا ہے، وہ بعد ازاں اسی نتیجہ پر پہنچا جہاں میں آپ کو نظم کے پہلے اور آخری حصوں پر بات کرتے ہوئے پہنچا آیا ہوں ۔ اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ شور شرابے کو بڑھ کر بالآخراس مقام پر پہنچ جانا ہے جہاں وہ خاموشی سے مات کھا جائے گا۔ یہ حصہ بھی آخر میں سبز آنکھوں میں سے جھلک دینے والے سوال سے جڑ جاتا ہے۔
نظم کا آہنگ قدرے نامانوس ہے تاہم یہ طے ہو چکا، اس باب میں بہت اچھی باتیں ہوئیں ۔ تیکنیک کو جس طرح جانچا گیا، فنی معاملات کو جس طرح کھنگالا گیا اس سے تنقیدی عمل پر میرا اعتقاد پختہ ہوا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ساری تنقیداور سارے مشورے ایسےنہیں ہوتے کہ انہیں لائق اعتنا نہ جانا جائے۔ ایک فاضل نقاد نے موسیقی کی ایک مغربی اصطلاح کو سامنے رکھا اوراس کے بہائو میں رکھے گئے رخنوں کو نظم میں وقفوں کی صورت دکھایا، تو مجھے اچھا لگا، جب دوسرے فاضل دوست نے یہ کہا کہ اصل چیز تجربے اور جذبے کی صداقت ہے تو اوربھی اچھی لگا۔ جب تخلیقی ابہام کی بات ہوئی ، بندوں کی وحدت کے احترام کے مشورے آئے ، یا یہ نشان زد کیا گیا کہ صوتی اتصال میں راشد سے کیسے گڑبڑ ہو گئی تھی تو سب خلوص اور تخلیق سے کتنا جڑ کر ہورہا تھا ۔ لیجئے صاحب ایک فضا بن گئی جس میں تخلیق پر بات کرنے میں تنقید کو حجاب نہیں آئے گا ۔
یہیں مجھے نظم نگار محمد یامین کو بھی مبارک باد دینی ہے کہ اس کی نظم پر بھر پور گفت گو ہوئی۔ ایسی گفتگو کم کم فن پاروں کا مقدر ہوا کرتی ہے۔

Thursday, March 5, 2009

بدلتی ہوئی دنیا میں ادب کا کردار

بدلتی ہوئی دنیا میں ادب کا کردار
محمد حمید شاہد

میں نے اس موضوع کو کورے کا غذ پر لکھا ہی تھا کہ سارے وجود میں سنسنی دوڑ گئی ۔ خود پر جبر کرکے بدن میں تیرتی اس سنسناہٹ کو کا ٹا تو کھلا کہ یہ موضوع سیدھے سبھاﺅ کُھلنے کا ہے ہی نہیں ۔میں نے عنوان کا سوانگ بھرے اِس آدھے جملے کے آگے استفہامیہ علامت لگائی اور اِسے کھلا بھی رہنے دیا ‘ہر دو صورتوں میں یہ میری چھاتی چاٹے بنا ٹلتا ہی نہ تھا‘ سو میں نے یہ حیلہ کیا ہے کہ اس آدھے جملے کو بھی دو نصف حصوں میں بانٹ لیا ہے ۔ ایسا کرنے سے بدلتی ہوئی دنیا کی دہشت الگ ہو گئی ہے ۔ ادب کا کوئی کردار اس دہشت کے منظر میں ہے یا نہیں؟ اس سوال کو میں نے الگ کونے میں لڑھکا دیا ہے ۔
بدلتی ہوئی دنیا کیاہے ؟اور اس کے بدلنے کا پیمانہ کہاں سے میسر آتا ہے؟ کسی زمانی پڑاﺅ کے بیچ‘ لکیر ڈال کرسوچیں گے تو کچھ پلے نہ پڑے گا تو یوں کرتے ہیں کہ زمانے کو بدلتی زندگی سے تعبیر دے لیتے ہیں اور زندگی کو اس ( Litmus) لٹمس سے جو ایسڈ (acid solutions)میں پڑتا ہے تو سرخ ہو جاتا ہے اور الکلائین (alkaline solutions )میں ڈوبتا ہے تو رنگ بدل کر نیلا ہو جاتا ہے۔ رنگ بدلتی اس زندگی کو سمجھنے کے لیے میں نے پانچ دائرے لگائے ہیں یہ پانچوں دائرے اپنے اپنے مراکز پر گھومتے تو ہیں ایک دوسرے کو کاٹتے اندر تک گھستے اور جزوی طور پر منطبق بھی ہوتے ہیں اور جس علاقے میں ایک دائرے کا دوسرے پر انطباق ہوتا ہے وہیں ان کے بیچ ایک انفساخ کو بھی دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔

بدلتی ہوئی زندگی پر ایک نظر

سب سے پہلے دائرے کے اندر میں نے ’فرد فرد زندگی‘ لکھا ہے اور اسے انسانی زندگی کی ابتدا ءجانا ہے جب ہر فرد اپنی ذات میں کلی طور آزاد تھا آپ اسے انسانی تہذیب کا اولین بیج کہہ سکتے ہیں ۔ دوسرے دائرے میں قبائلی زندگی لکھ لیجئے اور یہ تب کی بات ہے جب انسان نے اپنی ضرورتوں کو ایک دوسرے سے وابستہ کرلیا تھا۔ تب انہی انسانوں میں سے ایک اُن سب پر بااختیار ہوا اور اتنا اختیار حاصل کرلیا کہ وہی آزاد تھا اور پورا قبیلہ اس کا غلام ۔ان دو دائروں کے درمیان وہ انطباقی علاقہ پڑتا ہے جہاں زندگی جفت کے جوہر سے آشنا ہوئی تب عورت اور مرد ایک دوسرے پر حاوی نہیں تھے بلکہ وہ اپنے آزاد اشتراک سے زندگی کے تسلسل کے امین تھے۔ حکمرانی کا لوبھ تو قبیلوں کے پیٹرن بننے کے بعد انہوں نے سیکھا ۔قبیلوں کے اتصال اور مخاصمت کے عمل سے معاشرتی دائرہ وجود میں آیا۔ یہ وہ تیسرا دائرہ ہے جو دوسرے دائرے کے مشترکہ علاقے میں خاندان کی شباہت مکمل کرتا ہے اور چوتھے دائرے پرمنظبق ہوتے وقت تہذیب اور روایت کی نمود اور بالیدگی کے سوال سے جڑجاتا ہے ۔چوتھے دائرے میں تہذیبی زندگی کو جدید سائنسی زندگی کی جانب جست لگاتے دیکھا جا سکتا ہے ۔ اس جست کی غُلبُلا میں انسانیت کے قدم تہذیب اور روایت کی سرزمین سے اُکھڑ گئے ہیں اور یہ ایسی زندگی ہے جوچوتھے اور پانچویں یعنی آخری دائرے کے مشترکہ علاقے میں پڑتی ہے ۔ جسے میں نے آخری دائرہ کہا ہے اس میں صارفی زندگی یا پھر معاشی بالادستوں کی چیرہ دستیوں کا زمانہ کہہ لیں.... اور صاحبویہی ہمارا بدلا ہوا زمانہ ہے۔
ّ اس صارفیت یا consurmerism والے زمانے کا المیہ یہ ہے کہ اس میں چند ایسی ملٹی نیشنل کمپنیوں( جن کی تعداد ایک اندازے کے مطابق سو کے لگ بھگ بنتی ہے ) کے ہاتھ سرمائے کا ارتکاز ہو گیا ہے جو اسے ضرب دیئے چلے جانے پر قادر ہیں۔ پیسہ پیسے کی افزائش کرتا ہے سو افزائش تو خوب ہوئی رہی ہے مگر ظلم یہ ہے کہ اس سارے عمل میں ان کا مذہبی اور نسلی تعصب بھی پوری طرح بیدار‘متحرک اور کارفرما رہتا ہے ۔ یہی سبب ہے کہ عالمی سطح پر بہت سے فیصلے انہی کی ایما پر ہوتے ہیں حتی کہ واحد عالمی قوت بن جانے والے ملک کے اپنے داخلی سیاسی فیصلے ہوں یا بین الاقوامی تعلقات ۔پیدا واری مراکز پر قبضہ ہو یا نئی نئی مارکیٹوں کی دریافت اورتنظیم۔ حربی قوت کے استعمال کے فیصلے ہوں یا دست نگرحکومتوں میں ردوبدل کے معاملے ۔جمی جمائی تہذیبوں کو بنیاد پرستی کے طعنے سے زچ کرنے اور ان کا رخ موڑنے کا معاملہ ہو یا روایت اور عصری زندگی کے تال میل سے قوت پانے والے ادبی متون کو تخلیق کی بجائے فقط اسٹریکچر بنا دینے کا معاملہ ‘ہر کہیں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے تعصبات پوری طرح دخیل دیکھے جا سکتے ہیں۔
اس جانب توجہ دلاتے ہوئے ایڈورڈ سعید نے اپنے مضمون میں ایک سیاسی تجزے کا حوالہ دیتے ہوئے نشان زد کیا تھاکہ عالمی سرمایہ کاری کے اس زمانے میں سرحدیں کمزور ہو گئی ہیں ‘الگ قومی شناخت پر چوٹ لگائی گئی ہے۔ معاشروں اور قومی اداروں کو داخلی سطح پر عدم استحکام سے دوچار کیا گیا ہے۔ مقامی ثقافتیں تہذیبی شناخت سے کٹ کر سرمائے کی اقلیم میں داخل ہو گئی ہیں۔ انفرادی میلانات کو قومی میلانات پر ترجیح دی جاتی ہے اور دنیا بھر کے پانچ میں سے صرف ایک انسان کو سرمائے کی بڑھوتری کے آلہ کار کے طور پر چن لیا گیا جب کہ چار بٹا پانچ دنیا ایسے اپاہج کی صورت ہو گئی ہے جس کا ایک ہاتھ آگے ہوتا ہے اور دوسرا پیچھے۔ صاحبو اسی اپاہج دنیا میں میں بھی رہتا ہوں اور آپ بھی اور وہ بھی جو ہم میں سے ہیں مگر ادھر سے آنے والی روشن خیالی اورعالمی ثقافت کے فروغ کے لیے چن لیے گئے ہیں ۔
تو معاملہ یہ ہے کہ میرے ہاں تو بدلے ہوئے زمانے کی کچھ ایسی تصویر بنتی ہے۔ میں نے اس تصویر کو اپنے ایک افسانے میں گوگول کے ہاں بننے والی اس نامکمل رہ جانے والی تصویر کا سا قرار دیا تھا جس کی شیطانی آنکھوں کو دیکھتے ہی ابکائی آجاتی تھی ۔اس تصویرکی شیطانی آنکھوں میں بلا کی چمک ہے اس چوندھ میں تہذیبی زندگی کا دائرہ سمٹتا جا رہا ہے یوں اب ہم عنوان کے دوسرے حصے سے جڑ جاتے ہیں کہ اس سمٹتے دائرے میں ادب کیا اپنی سانسوں کو بحال رکھ پائے گا یا یہ بھی بدلتے ہوئے زمانے کے سب سے کارگر حربے یعنی اشتہاریت اور صارفیت کا لقمہ بن جائے گا۔
یہیں سارتر کی ایک بات یاد آتی ہے اس نے لکھا تھا کہ
” امریکہ میں آپ سڑک پر اکیلے نہیں رہ سکتے ‘دیواریں تک آپ سی باتیں کرتی ہیں دائیں بائیں آپ کو تختوں پر لگے اشتہار‘ منور سائن بورڈ اور دکانوں کی بڑی بڑی آراستہ کھڑکیاں نظر آئیں گی جن میں ایک تو بڑی سی تصویر ہوتی ہے اور کچھ اعداد وشمار ۔ ان تصویروں میں آپ دیکھیں گے کہ ایک پریشان حال عورت ایک امریکن سپاہی کو اپنے ہونٹ پیش کر رہی ہے ۔ یا ایک ہوائی جہاز کسی شہر پر بمباری کر رہا ہے اور تصویر کے نیچے لکھا ہوگا ”بم نہیں‘ انجیل“
سو یوں ہے کہ اب منہ پھاڑ کر اور سنجیدگی سے سوچے بنا ‘نصاب بدلنے کی بات ہوتی ہے ‘ روشن خیالی کا درس دیا جاتا ہے ‘ کھلی اور بے مہار ثقافتی پالیسی متشکل ہوتی ہے۔ کچھ ہم بدل چکے ہیں باقی کا کام جدید تر انفارمیشن کا سیلاب آسان بنا رہا ہے ۔ ہونٹوں ‘ بموں اور اشتہارات کی نفسیات نے ہماری تہذیبی روایت کو اتنے چرکے لگائے ہیں کہ ادبی سرگرمی کو سنجیدہ تخلیقی اور تہذیبی عمل سمجھنے کی بجائے ایک ثقافتی سرگرمی سمجھا جانے لگا ہے‘ایسی سرگرمی جس کے مارکیٹ میں دام لگتے ہیں اورجس کے ذریعے صارفیت کے اس زمانے میں ساکھ بنائی جاسکتی ہے۔ میں خلوص نیت سے سمجھتا ہوں کہ ادب کا اگر کوئی کردار اس زمانے میں ہے تو وہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے اس زمانے کی ہوا کے ساتھ چلنا نہیں بلکہ اس کے منہ زور تھپیڑوں میں اپنی تہذیبی شناخت سے جڑے رہنے کے اصرار ہی سے بنتا ہے یہی طرز عمل ہمیں اور ہمارے ادب حتی کہ تمام انسانی تہذیبی مظاہر کوصارفیت سے بچا سکتا ہے ۔
٭٭٭

Sunday, March 1, 2009

نوجوان افسانہ نگاروں سے خطاب


افسانہ : اجزائے ترکیبی
محمد حمید شاہد

سب سے پہلے‘میں اس یونیورسٹی ‘اس اکادمی اور آج کی اس ورکشاپ کے منتظمین کا شکریہ ادا کرناچاہتا ہوں کہ یوں مجھے نوجوان افسانہ نگاروںسے مخاطب ہونے کا موقع میسر ہورہاہے۔ میرے لیے یہ تجربہ بہت پرلطف اوردل خوش کن ہے کہ نوجوان‘ جن کی دل چسپی اور تفریح کے لیے مارکیٹ اکانومی کو فروغ دینے والوں نے سو طرح کے جال پھیلا رکھے ہیں‘ وہ افسانہ پڑھنے اور لکھنے جیسی خالص تہذیبی اور تخلیقی سرگرمی میں دل چسپی رکھتے ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ سب لکھنے کی طرف راغب ہیں اور اب چاہتے ہیں کہ افسانہ جیسی بھید بھری صنف کے اجزائے ترکیبی کو جان سکیں اور سمجھ سکیں کہ افسانہ لکھنے کے کیا تقاضے ہیں۔
افسانہ نگاری تخلیقی عمل ہے
یہ راز کی بات گرہ میں باندھنے کے لائق ہے کہ یہ صنف صرف انہی قلم کاروں کو اپنے قریب پھٹکنے دیتی ہے جو لکھنے کو مشقت نہ سمجھتے ہوں اور جن کے دل اس صنف کی محبت کے فیضان سے سرشار ہوں ۔ یہی بے لوث اور بے ریا محبت‘ افسانہ لکھنے والوں کا مزاج بناتی ہے‘ اور رفتہ رفتہ اس صنف کے ان غیرمعمولی بھید بھنوروں کو کھول دیا کرتی ہے جنہیں کسی ورکشاپ میں سیکھا ہی نہیں جاسکتا۔ لیکن یہاں بات سیکھنے سیکھانے کی ہو رہی ہے تو مجھے یہ وضاحت کرنی پڑ رہی ہے کہ افسانہ لکھنا ‘ تیکنیکی نہیں بل کہ تخلیقی سرگرمی ہے۔ ہنر کوئی سا بھی ہو جب اسے سیکھنے کے لیے مسلسل محنت اور ریاضت کی جائے تو ایک وقت ایسا آ ہی جاتا ہے کہ جب سیکھنے والے میں اسے ڈھنگ سے دہرائے چلے جانے کی استعداد پیدا ہو جاتی ہے ۔ ادبی تخلیق اور بہ طورخاص افسانے کا معاملہ بالکل الگ ہے اگر کسی کے اندر اسے لکھنے اور اس کے ذریعے زندگی کی تفہیم کی لگن نہیں ہے تو ممکن ہے کہ وہ اپنے ریاض کے ذریعے کرافٹ پر قدرت پالے اوریک سطحی کہانیوں کا ڈھیر لگا لے‘ ادبی فن پارے تخلیق کرنا اس کے لیے ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہو جاتا ہے ۔ میں ایسے بہت سے قلم کاروں سے آگاہ ہوں جن کی شروع کی کارکردگی بہت عمدہ تھی مگرچوں کہ انہیں اس صنف کی لگن ودیعت نہ ہوئی تھی لہذا وہ بہت جلد ادھر سے اکتادوسری نوع کی تحریریں لکھنے کی طرف مایل ہوگئے یا پھر انہوں نے اپنے افسانوں کو بھی نظمیں یاانشایے بنالیا ۔
افسانہ اور تیکنیکی وسیلے
یہ جو میں نے کرافٹ کو تخلیقی عمل سے الگ کرکے دکھایا ہے تو یہیں بتاتا چلوں کہ میں کرافٹ کو غیر اہم نہیں سمجھتا ہوں۔ تا ہم میں اسے بنیادی جزو کی بہ جائے ایسے اجزاءمیں شمار کرتا ہوں جو افسانے کے باب میںدوسرے درجے میں آتے ہیں۔ کرافٹ کا تعلق دستی مہارت اور تدبیر سے ہوتا ہے ۔ اسی تدبیر میں کچھ چالاکی‘ تھوڑی سی ہوشیاری حتی کہ چٹکی بھر مکاری بھی شامل ہو جاتی ہے۔ تخلیق‘ تجربے ‘ مشاہدے‘احساس‘ تخیل اور لاشعور سے ایک ساتھ معاملہ کرتی ہے۔ اس میںبنانے اور ڈھالنے کے نہیں بل کہ پیدا کرنے اور عدم سے وجود میں لانے کے معنی پائے جاتے ہیں۔ تخلیقی عمل اور کرافٹنگ کے درمیان بعض اوقات تفریق مشکل ہوجاتی ہے تاہم ایک لکھنے والے کو یہ جان لینا ہوگا کہ دونوں کا اثر افسانہ کے مواد‘زبان اور کہانی کے مزاج میں بہت گہرائی تک سرایت کر جاتا ہے ۔ جس شخص کے اپنے مزاج میں تخلیقیت کا فقدان ہو‘ اس کے مزاج میں تخلیقیت کو ٹپکانے میں اس طرح کی ورکشاپس بہ مشکل ہی کوئی مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں۔
میں اس طرح کی باتیں کرکے اس ورکشاپ کے نوجوان افسانہ نگاروں کے حوصلے توڑنا نہیں چاہتا کہ آپ لوگ تو افسانہ لکھنے کا ہنر سیکھنے کے لیے ملک کے دور دارز شہروں سے یہاں جمع ہوئے ہیں ۔ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ میں آپ کی اس لگن کی قدر کرتا ہوں اور اگر آپ کو تخلیقی تجربے سے وابستگی‘مادی وسائل کی بڑھوتری والی سرگرمیوں سے بڑھ کر لگتی ہے تو آپ کو میری باتوں سے دِل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے اور امید رکھنی چاہیے کہ آپ بہت جلد ایسا افسانہ تخلیق کرنے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے جس کے تخلیق ہوتے ہی آپ کی روح سرشار ہو جائے گی۔
پڑھنا ہی لکھنے کی بنیاد ہوتا ہے
لیجئے ہم نے فرض کرلیا کہ آپ سب کا مزاج اس صنف سے ہم آہنگ ہے اور اس کے تخلیقی تجربے سے لگن بھی آپ کو ودیعت ہو چکی ہے ۔ یہ سب کچھ فرض کر لینے کے بعد‘ حتی کہ اس کا یقین کر لینے کے بعد بھی‘ ایک خدشہ دامن گیر رہے گا جس کا اظہار اسی ابتدائی مرحلے پر مناسب رہے گا۔ جی ‘ افسانے کی صنف سے ہم آہنگ یہ مزاج اپنی جگہ قدرت کا بہت بڑا انعام سہی مگر یہ اس وقت تک تخلیقی عمل میں معاون نہیں بنے گا جب تک اسے مسلسل مطالعے ‘وسیع مشاہدے ‘ لکھنے‘ لکھ کر کاٹ دینے اور ناکام تحریروں سے دامن کشاں ہوکر ہر بار نیا لکھنے کی تاہنگ سے وابستہ رہ کرتازہ نہ رکھا جائے گا۔پڑھنا ہی لکھنے کی بنیاد ہوتا ہے۔ صرف دنیا بھر کے افسانے پڑھنا ہی کافی نہیں ہے ان علوم کو ضرورت کی حد تک پڑھنا بھی ضروری ہے جنہیں ان افسانوں میں برتا گیا ہوتا ہے۔ بار بار پڑھنا اور افسانوں کا اپنے تئیں تجزیہ کرنا کہ فن پارے میں کرادر کس طرح کام کر رہے ہیں پلاٹ کیا ہے اور ماحول کس طرح بنتا ہے‘زبان کس طرح کی ہے وقت کو کس طرح برتا گیا ہے اور اسے برتتے ہوئے وقت سے کون سا زمانہ اجالا گیا ہے ۔ اس طرح کی بہت سی چیزیں ہیں کہ جب کوئی افسانہ توجہ سے پڑھا جائے گا تو وہ ایک لکھنے والے کوچپکے سے سجھا دے گا ۔ باریک بینی سے سارے عمل کاتجز یہ لکھنے والے کے اندر کسی متن کو ایک سے زیادہ طریقوں سے ترتیب دے سکنے کا اعتماد بھی پیدا کرتا ہے۔
تجربہ اور مشاہدہ
ایک زندگی تو وہ ہوتی ہے جو آپ کے براہ راست تجربے میں آتی ہے ۔ خود آپ پر گزر رہی ہوتی ہے ۔ یا پھر آپ کے انتہائی قریبی ایسے لوگوں پر گزر رہی ہوتی ہے جن کی زندگی کسی نہ کسی حوالے سے آپ کی زندگی سے جڑی ہوئی ہوتی ہے ۔ آپ کا اپنا گھرہے ‘اس میں رہنے والے افراد ہیں‘ ان افراد کے اپنے اپنے حسی اور جذباتی علاقے ہیں‘ ان سب کا ماضی ہے اوراس ماضی سے وابستہ کہانیاں ہیں ۔ اپنے خاندان کے علاوہ آپ ایک محلے میں رہتے ہیں ایک اسکول‘ کالج یا یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں ۔ آپ سفر کرتے ہیں ‘لوگوں سے ملتے ہیں ‘یوں آپ کی شخصیت کی تعمیر میں بہت ساری شخصیات حصہ لے رہی ہوتی ہیں ۔ شخصیت سازی کے اس عمل میں ایک تخلیقی مزاج رکھنے والا شخص ایک اور طرح کا کام بھی کررہا ہوتا ہے وہ ان ساری شخصیات کازائچہ بنا کر اپنے لاشعور کے دفتر کے حوالے کرتا چلا جاتا ہے ۔ غیر تخلیقی آدمی کا لاشعور ٹھس ہوتا ہے ایسی بنجر زمین کی طرح جو اصل بیج کو بھی اپنے اندر دبا کر مار دیا کرتی ہے ۔ مگر تخلیقی آدمی اسی تجربے اور مشاہدے کے اجزاءکو باہم ضرب دیتا چلا جاتا اور اس سے زندگی کی تخلیق نو کا اہتمام کرتاہے ۔ زندگی کو سطح سے دیکھنا‘ معاملات کو سرسری لینا‘ سانحات کو وقت گزرنے پر اپنی شخصیت سے منہا کر دینا‘ ایسے افراد کا وتیرہ نہیں ہوا کرتاجو تخلیقی عمل سے جڑنا چاہتے ہیں ۔
دیکھاجائے تو تجربے‘ مطالعے اور مشاہدے کا جوہر ہی کسی مہربان لمحے میں کسی افسانے کا آغاز بنا کرتا ہے۔ میں اس جوہر کو ایسا وجود حقیقی قرار دیتا ہے ہوں جو کسی نہ کسی بالائی درجے میں مطلق حقیقت کا جزو ہوکر عمل خیر کا ایک رنگ ہو جاتا ہے ۔ یہی سبب ہے کہ تخلیقی عمل کو دوسرے معنوں میں خیر سے جڑنا قرار دیا گیا ہے ۔ تجربے‘ مطالعے اور مشاہدے کا یہ جوہر کسی بھی افسانے کی غایت استواری بنتے سمے ہی کہانی کا مزاج اور اس کے دائرہ عمل کو بھی متعین کردیا کرتا ہے ۔ یوں دیکھا جائے تو ایک بیج کی طرح تخلیقی عمل کو آغاز دینے والے جوہر میں اتنی قوت ہوتی ہے کہ وہ لکھنے والے کو اس کے عمومی چلن سے برگشتہ کرکے اس افسانے کے لیے خاص تخلیقی عمل سے وابستہ آہنگ سے جوڑ دے۔
اجزائے ترکیبی:فیصلے نہیں‘محض تخمینے
جی ‘میں نے ہر افسانے کے لیے الگ آہنگ کی بات کی ہے اور میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اس جادوئی صنف کے اجزائے ترکیبی الگ الگ کرکے دکھانے کا دعوا رکھتے ہیں ۔ میں تو اس باب میں تخمینے ہی لگا سکتا ہے ۔ اور جوں ہی ایک افسانے کی بابت تخمینہ لگانے کے بعد کسی دوسرے افسانے کوپڑھتا ہوں تو پہلے والے تخمینے کے اجزاءاور ان کی ترکیب میں کمی بیشی کرنا پڑتی ہے۔ میں اس مرحلے پر آپ کو چوکنا کر دینا چاہتا ہوں کہ افسانے کے اجزائے ترکیبی سیکھنے کی حد تک بہت اہم ہیں اور یہ مشغلہ ہے بھی خوب ۔ وہ لوگ جو ابھی افسانہ لکھنے کے تجربے سے گزرنے کی تیاری کے مرحلے میں ہیں ‘ ان کا یوں جاننا کسی حد تک ان کے اندر اعتماد بھی پیدا کر دے گا۔ تاہم ایک ایسے شخص کے لیے جو افسانہ لکھنے کی نیت باندھ کر سامنے کورا کاغذ دھرے بیٹھا ہے یا وہ’ کی بورڈ‘ پر بیٹھا پہلا جملہ لکھنا چاہتا ہو ‘اس کے لیے اہم یہی ہے کہ وہ سب کچھ بھول جائے۔ وہ جو میں بتا چکا ہوں اور وہ بھی جو میں آگے چل کر بتانے والا ہوں کہ ہر نیا افسانہ ان اجزائے ترکیبی کے حوالے سے نئے فیصلے صادر کیا کرتا ہے ۔
حقیقت کیا ہے اور افسانہ کیا؟
افسانہ کیا ہے ؟ مناسب ہوگا کہ یہیں اس سوال سے نمٹ لیا جائے۔ افسانہ کا لفظ حقیقت کے متضاد کے طور پر رواج پا گیا ہے ۔ دیکھا جائے تویہ دونوں لفظ جس مفہوم میں لغت سے برآمد ہوتے ہیں‘ اپنے اصطلاحی معنوں میں ویسے ہیں نہیں ۔ میں نے جب جب افسانہ کو ایک ادبی صنف کے طور پردیکھا ہے مجھے یہ صنف حقیقت کو اپنے اندر سموتی اور جذب کرتی نظر آئی ہے ۔ ایسے میں آپ یہ کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ حقیقت ‘جو افسانے کا جزو ہے اس کی ضد بھی ہے۔ اضداد کا قیام ہی فصل اور تقابل سے بنتا ہے جب کہ یہاں معاملہ یہ ہے کہ حقیقت جزو ہو کرافسانے میں جذب ہورہی ہے ۔ حقیقت اور افسانے کے باب میں ہم جب تک ڈھنگ سے سوچنے کے قابل نہیں ہو جاتے ‘ ناقص فیصلے دیتے رہیں گے۔ ایسے میں اس صنف کے عناصر کو ڈھنگ سے شناخت کرنا اور ان کی کارکردگی کو سمجھنا بھی ممکن نہیں رہے گا۔
ایک لمحے کے لیے یوں کرتے ہیں کہ افسانہ کو ایک تصوراتی زندگی کا نقشہ سمجھنے کی بجائے زندگی کی تخلیق نوقرار دیتے ہیں ۔ ایسی زندگی جو پرکھی ہوئی اور برتی ہوئی زندگی کے بیان تک محدود نہیں رہتی ‘ ایک نئی ترکیب میں زندگی کو تخلیق کرتی ہے اور ان علاقوں کو بھی اس کا حصہ بنا دیتی ہے جو ہمارے علم اور تجربے میںنہ آسکے تھے۔ اگر ایسا ہے اور یقینا تخلیقی تجربے سے ایسا ممکن ہوجاتا ہے تو یہ ماننا پڑے گا کہ افسانے کا سچ عام زندگی کے تجربے میں آنے والے سچ سے کہیںبڑا سچ ہوتا ہے۔ کسی فن کار کاتخلیقی وجدان اور کائنات کی کل کو کلاوے میں لے لینے والا تصور ‘جب کسی افسانے میں‘تجربے میں آنے والی جزوی حقیقت پر اکتفاکرنے سے ا نکار کر دیتا ہے تو ایسے میںلازم ٹھہرتا ہے کہ حقیقت کے اس خام تصور کو بھی لائق اعتنا نہ سمجھا جائے جس میں برتی ہوئی باسی زندگی اور اس کے مظاہر ہی کو حقیقت تسلیم کرلیا جاتا ہے ۔
چار بنیادی باتیں
افسانے کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں؟ وہ سوال جو آپ نے میرے سامنے رکھا تھا ابھی تک اپنی جگہ ویسے کا ویسا قائم ہے حالاں کہ اب تک ہم یہ آنک چکے ہیں کہ افسانہ لکھنے کے لیے:
۱۔ تخلیقی مزاج رکھنے والا فن کاردرکار ہوتا ہے ۔
۲۔ تخلیقی مزاج رکھنے والے اس فن کارکو مشاہدے‘ مطالعے اور ریاض کے مراحل سے گزرکر لکھنے کی طرف راغب ہوناہوگا۔
۳۔تخلیقی عمل کے شروع ہوتے ہی ‘بنے بنائے سانچوں کو اگر توڑنا پڑے تو ایسا کرنے کا تخلیق کار میں حوصلہ ہوگا۔
۴۔ لکھنے والے کو افسانہ اور حقیقت کے بارے میں اپنے عمومی تصور کوجھٹکنا ہوگا۔
اوپر بیان کی گئی صورتیں‘ افسانے کے اجزائے ترکیبی والے باب کی تمہیدبن سکتی ہیں اور اسی تمہیدی حصے میں گفت گو کے اس دوسرے مرحلے کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے جو میں اب کرنے جارہا ہوں۔
افسانہ اور اس کا قاری
میں گفت گو کے اس مرحلے پر زندگی کے عمومی سچ اور افسانے کے سچ کے درمیان وقوع پذیر ہونے والے اس علاقے کی نشان دہی کرنا چاہتا ہوں جس میں کسی افسانے اور اس کے قاری کے درمیان ایک خالص اعتماد کا رشتہ استوار ہوجایاکرتا ہے ۔ قاری کے اس رشتے کی نوعیت اس رشتے سے یکسر مختلف ہوتی ہے جو ایک نظم اور اس کے قاری کے درمیان بنتا ہے ۔ آپ اس رشتے کوایک اور انتہا پر اس وقت دیکھ سکتے ہیں کہ جب یہی قاری ایک غیر ادبی متن کا مطالعہ کر رہا ہوتا ہے۔ یہ بات گرہ میں باندھ لیں کہ یہ افسانے کی عطا ہے کہ یہ اپنے لکھنے والے اورپڑھنے والے‘ دونوں کوان کی اپنی زندگیوں سے ایک ہی لمحے میں جوڑتی بھی ہے اور اس سے آگے گزر کر ایک نئی زندگی کے تجربے سے گزارتی بھی ہے ۔ غیر ادبی متن کا مطالعہ ‘ چاہے وہ چونکا دینے والی خبر جیسا ہو یا ایک قانونی دستاویز جیسا‘ ایک یادداشت ہو یا واقعات کا تسلسل ‘ ایسے سارے متون قاری کی اپنی زندگی کے گودے سے وہ رشتہ استوار نہیں کرپاتے جو افسانہ کرتا ہے ۔
ایک نظم کارشتہ اگرچہ افسانے کی طرح قاری کے باطن میں قائم ہوتا ہے مگر اس کی صورت بھی زندگی کی ازسر تعمیر جیسی نہیں ہوتی۔ اس میں سے تصور اور احساس کا شدید دھارا بہت کچھ منہا کر دیا کرتا ہے۔
یہاں میں افسانے کے اس تخلیقی جوہر کی بات کر رہا ہوں جس میں جذبات کو سطح پر نہیں برتا جاتا ۔ جذبات کو سطح تک اچھال دینا تو شاعری کا وتیرہ ہوا کرتا ہے ۔ افسانہ ہمیں سکھاتا ہے کہ تجسس ہو یا ڈرامہ ‘ تنازع ہو یا تصادم ‘جذبے کو بہت گہرائی میں بہنا اور چپکے سے قاری کے احساس کا حصہ ہوجانا ہوگا‘ کچھ اس طرح کہ یہ احساس‘ اس کے اپنے جذبات کو ایک جہت دینے کا جواز بن سکے ۔ مناسب یہی ہوتا ہے کہ کہ افسانے کا متن قاری کو کہنیاں مار مار کر ایک طرف دھکیلتا نظر نہ آئے۔ اس کے خیالات کو بدلنے کے لیے نصیحتیں نہ شروع کردے۔ قاری کی انا کو ٹھیس نہ پہنچائے اور اسے یہ طعنے بھی نہ دے کہ وہ غلط فیصلے کیے بیٹھا ہے ۔ اسے اپنا کام اندر ہی اندر اور چپکے چپکے کرنا ہوتا ہے ۔ دیکھا جائے توافسانے کو یہ کام اپنے پہلے ہی جملے سے ہی انجام دینے کیے تیار رہنا ہوتا ہے یہ احساس دلائے بغیر کہ قاری کے حسی علاقوں کو مفتوح کرنے کے لیے وہ چوکس ہے ۔
پہلا جملہ
میرے نزدیک افسانے کی تخلیق میں اور اس کے مزاج کو متعین کرنے میں پہلا جملہ بہت اہم ہوتا ہے ۔ جدید زمانے تک آتے آتے افسانے کا آغاز اس کے انجام کی طرح اہمیت اختیار کر گیا ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ سیدھے اورسپاٹ جملے سے کہانی کو آغاز دے لیا جاتا‘ یوں کہ بالعموم پہلے ہی جملے سے کہانی کے زمان و مکان کا تعین ہو جاتا۔ ”ایک تھا بادشاہ‘ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ “یا پھر ”ایک دفعہ کا ذکر ہے“ جیسے جملوں سے آغاز پانے والی ان کہانیوں میں وقت بھی ایک ہی دھج اور ایک ترتیب سے چلتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ افسانہ لکھنے والوں نے بھی نئے نئے ڈھنگ ایجاد کر لیے ہیں ۔ اب تو ہر نیا افسانہ احساس کی سطحوں پر نئے وقت کا ردّا چڑھانے کے لیے نیا پن لے کر آتا ہے۔
اب یہ ضروری نہیں رہا کہ کہانی میں واقعہ کی جو ترتیب بنتی ہے اسے افسانے میں عین مین ویسا ہی رکھا جائے ۔ افسانے کے اندر کہانی میں واقعات کی اکائیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر اپنی ترتیب بدل لیتی ہیں اور اس بدلی ہوئی ترتیب سے اصل تنازع کے اندر تناﺅ پیدا کیا جاتا ہے ۔ کچھ لکھنے والے اس تناﺅ کے وسطی علاقے سے جڑی ہوئی کیفیت سے جملہ بناتے اور اسے آغاز میں رکھ لیتے ہیں۔ کچھ لکھنے والے اس تناﺅ کو معدوم ہونے دیتے ہیں اور لگ بھگ جہاں کہانی ایک نئی کیفیت میں داخل ہوتی ہے وہاں سے کہانی کو آغاز دے کر واپس پلٹتے ہیں اور یوں اپنی کہانی میں دل چسپی بڑھانے کا ساماں کیے چلے جاتے ہیں ۔
افسانہ جہاں سے بھی آغاز پائے اس کاا ہتمام کیا جاتا ہے کہ پہلا جملہ قاری کو متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اور اگر پہلا جملہ سادہ ہو تو افتتاحی پیرا گراف کی ساخت میں یہ قرینہ رکھ لیا جاتا ہے کہ معنی کا بہاﺅ قاری کو اپنے ساتھ لے کر چلے۔ یاد رکھیے کہ کم زور اور ڈھیلا ڈھالا آغاز اچھی بھلی کہانی سے قاری کو برگشتہ کر سکتا ہے اور چست آغاز کم زور کہانی میں بھی قاری کی دل چسپی کو بڑھا سکتا ہے۔
اختتامی حصہ
افسانے کے آغاز کی طرح اس کی کامیابی اور ناکامی کے باب میں اس کے اختتامی حصے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بات ذہن میں حاضر رہنی چاہیے کہ قاری جیسے تیسے افسانہ پڑھنا شروع کردے تو اس کا کم زور آغاز بھول سکتا ہے مگر کہانی کا کم زورانجام اس کی یادداشت سے کبھی محو نہ ہوگا۔
ابھی ابھی میں کہہ رہا تھا کہ افسانہ کہیں سے بھی آغاز پا سکتا ہے‘ اس میں اس بات کا اضافہ کر لیجئے کہ افسانہ نگار کو یہ قرینہ سیکھنا ہوگا کہ وہ اس آغاز کو‘ کہ جسے افسانے میں التوا میں ڈال دیا گیا ہوتا ہے‘ آگے چل کر کہانی کے وسط یا پھر اختتامی حصے میںکہانی کے بہاﺅ کے اندرجوڑ دے‘ یوں کہ یہ جوڑ الگ سے دکھائی نہ دے ۔ اس باب میں یہ احتیاط لازم ہو جاتی ہے کہ کہانی کا یہ آغاز افسانے کے اندر رخنہ بن کر بھی ظاہر نہ ہو۔
بات اختتامیہ کی ہو رہی تھی اور مجھے یہاں یہ کہنا ہے کہ افسانے کا اختتام ضروری نہیں ہے کہ تنازع کے تناﺅ کے نزول کا لازماً آخری کنارہ ہو۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ کہانی اس سے آگے ایک بھی جملہ نہیں بڑھنی چاہئے ۔ کچھ لوگ کہانی کے آخر میں نتیجہ سمجھانے کے جتن کرنے لگتے ہیں یاپھر انہیں اپنی کہانی پر اعتماد نہیں ہوتا اور اس خوف میں مبتلا ہوتے ہیں کہ بات مبہم رہ گئی ہے‘ لہذا وضاحتیں کرنے لگتے ہیں ۔ ایسے لوگ افسانے کا سارا لطف غارت کر دیا کرتے ہیں۔ افسانہ لکھنے والے کوقاری سے معاملہ متن کی باطنی سطح پرکرنا ہوتا ہے ۔ قاری کی حسیات کو متنبہ کیے بغیر ایک رخ کی جانب اشارہ کر دینے سے معنوی سطح پر کچھ زیادہ گنجائش پیدا ہوجاتی ہے کہ اس حیلے سے قاری جس نتیجے پر پہنچتا ہے وہ افسانہ نگار سے زیادہ فاصلے پر نہیں ہوتا ۔دیکھا گیا ہے کہ افسانہ نگار کے اس قرینے سے قاری اس دھند جیسی کیفیت سے اپنے تخیل کو وابستہ کرلیتاہے اور اس میں سے برآمد ہونے والے نتیجے کو اپنی کوشش خیال کرکے زیادہ لطف لیتا ہے۔ یاد رہے بہت کھلا ‘ننگااور فوری طور پر مطمئن کر دینے والا انجام افسانے کے حق میں ہمیشہ اچھا ثابت نہیں ہوتا۔ بالعموم ایسے افسانے بہت جلد قاری کے ذہن سے اترجایا کرتے ہیں جو اسے کچھ دیر کے لیے سوچنے پر نہیں اکساتے یا پھر اس کی حسیات پر چرکے نہیں لگاتے ۔ کھلے انجام کے مقابلے میں ذرا دھندلے انجام والا افسانہ قاری کو گہرا جمالیاتی حظ اٹھانے کا موقع فراہم کیا کرتا ہے۔
افسانہ اور کہانی
میں اپنی ساری گفت گو میں افسانے اور کہانی کو الگ الگ مفہوم میں استعمال کرتا آیا ہوں ۔ ممکن ہے آپ کے ذہنوں میں اس حوالے سے کوئی الجھن ہو ۔ یہاں وضاحت کرتا چلوں کہ ہمارے ہاں کہانی کو عام طور پر افسانے کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ دیکھا جائے تو ادبی سطح پر افسانہ بھی ایک کہانی ہی ہوتا ہے ۔ لیکن چوں کہ یہاں گفت گو تیکنیکی ہو رہی ہے تو فکشن کے حوالے سے اس فرق کو جاننا ضروری ہو جاتا ہے۔ فکشن کے ایک فن پارے میں‘ چاہے وہ افسانہ ہو یا ناول کہانی ایک جزو کے طور پر موجود رہتی ہے ۔ یوں آپ کہہ سکتے ہیں کہ کہانی تو افسانے کا حصہ ہوتی ہے افسانہ کہانی کا حصہ نہیں ہوتا ۔ کہانی کے ساتھ وہ اجزاءجن کا ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں یا وہ عناصر جن کو ہم آگے چل کر شناخت کریں گے(سب یاان میں سے چند ) ایک تناسب میں آکر ہی افسانہ بناپاتے ہیں ۔ تو یوں ہے کہ میں اس گفت گو میں شعوری طور پر کہانی کو افسانے کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے سے مجتنب رہا ہوں اورباقی ماندہ گفت گو میں بھی اس سے اجتناب کروں گا ۔ اس ساری گفت گو میں کہانی‘ افسانے کے اندر واقعات کی ترتیب سے بننے والے جزو کے طور پر ہی آئے گی۔
واقعہ کیسے قائم ہوتا ہے؟
افسانے کی کہانی میں واقعہ کیسے قائم ہوتا ہے ؟ یہاں یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے ۔ میں اس بابت غور کرتا ہوں تو اس نتیجے پر پہنچتا ہوں کہ وقت کے کسی دورانیے میں ایک متعین سمت میں حرکت‘یہاں تک کہ اس حرکت کی سمت بدل جائے ایک واقعہ کہلائے گا ۔ دوسرا واقعہ رخ بدل چکنے کے بعد سے ماپا جائے گا ۔ گویا دوسرے لفظوں میں کہانی میں واقعہ ایک کیفیت ‘صورتحال یا احساس کے دوسری صورت حال ‘کیفیت یا احساس میں ڈھلنے سے متشکل ہوتا ہے ۔ میں نے اپنی کسی اور گفت گو میں کہا تھا کہ کوئی بھی واقعہ خبر بن کر ایک اخبار میں چھپنے سے پہلے اُس تخلیقی عمل سے دوچار نہیں ہوتا جس کا اِمکان فکشن کے اندر ہوتا ہے ۔ یہاں ”اِمکان“ کا لفظ جان بوجھ کر اِستعمال کیا گیاہے اور اِس کا سبب یہ ہے کہ ایک خبر عین مین ایک مکمل کہانی ہوسکتی ہے یا پھر اسی خبر کو کہانی کا جزو بھی بنایا جا سکتا ہے لیکن افسانے کی مجموعی فضا میں اُس کی جُون بدل جاتی ہے ۔ یہاں پہنچتے ہی خبر کی طرح ضبط تحریر میں لایا گیا واقعہ وقت اور حقیقت کوحصار میں لے لیتا ہے۔ یوں افسانے میں پہنچتے ہی باہم جڑ کرکہانی بننے والے واقعات بظاہرعام سے واقعات ہو کر بھی عام نہیں رہتے ان کی کیمسٹری بدل جاتی ہے ۔ اگرکوشش کرکے واقعہ کے خام اور عمومی تصور سے دَامن بچالیا جائے تو سہولت سے اُس وقت اور واقعے کو بھی گرفت میں لیا جاسکتا ہے جو اَپنے خارج میں تو ٹھہرا ہوا ہوتا ہے مگر باطنی ترکیب اور ترتیب میں حرکی ہوتا ہے۔
تحرک کے قرینے
افسانے میں تحرک کا احساس اور معنیاتی نظام سے پیوستہ بیانیے کی رفتار بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ ہم اسے نشان زد کر چکے ہیں کہ واقعات کا بہاﺅ کہانی میں تحرک پیدا کرتا ہے اور ہم یہ بھی طے کر چکے ہیں کہ خیال اور احساس کے ایک کیفیت سے دوسری کیفیت میں ڈھلنے سے بھی واقعہ متشکل ہو سکتا ہے ۔ اب ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ اس متحرک بیانیے /متن کی رفتار کو تیز یا مدہم کیسے کیا جاسکتا ہے۔ آپ نے یقینا کئی افسانے پڑھ رکھے ہوں گے ۔ ان افسانوں کویاد کرکے اب بھی بہ سہولت آنک سکتے ہوںگے کہ ان میں سے تو کچھ ایسے تھے جنہیں بہت اچھی طرح لکھاگیا تھا۔ انہیں ان کی زبان و بیان سے جدا کرکے پوری طرح دہرایا نہیں جاسکتا ۔ دہراتے ہوئے کچھ نہ کچھ ان کہا رہ جاتا ہے۔ تاہم ان کی تاثیر بہت گہری اور جمالیاتی لطف ابھی تک تازہ ہوگا۔ اس کے مقابلے میں کچھ اور افسانے بھی ہوں گے کہ جنہیں پڑھتے ہوئے کہانی تو قائم ہو گئی ہوگی مگرپڑھ چکنے کے بعد بیانیہ اور متنی ترتیب دھواں بن کر اڑ گئی ہو گی۔ پہلی طرح کے افسانوں کا جب آپ ٹھہر ٹھہر کر مطالعہ کریں گے تو یہ بھید بھی پا لیں گے کہ ان افسانوں کا بیانیہ سیدھی لکیر میں چلتا ہے نہ اس کی رفتار ایک سی ہوتی ہے۔
افسانہ پڑھنے والے اور اسے لکھنے والے جانتے ہیں کہ اس صنف میں محدود متن کے اندر ہی کہانی/کہانیوں‘ کردار/کرداروں اور بیانیے کو اپنے جوہر دکھانے ہوتے ہیں ۔ افسانے کے بارے میں یہ فیصلہ دےا جاتا رہا ہے کہ اسے اس قدر طویل نہیں ہوناچاہیے کہ ایک نشست میں نہ پڑھا جاسکے۔ لفظوں کی تعداد کاتخمینہ لگا کر بھی بتایا گیا ہے کہ اس میں ایک ہزار سے بیس ہزار تک کے الفاظ مناسب رہےں گے ۔ افسانہ کتنا طویل ہو ‘سچ پوچھیں تو اس کا فیصلہ خود افسانے کو کرنا ہوتا ہے اور جب تک وہ مکمل نہیں ہولیتا اس جانب دھیان ہی نہیں لے جاتا ۔ میں نے دیکھا ہے کہ بعض اوقات یہ حدیں‘ افسانے کی اسی بے نیازی کے زیر اثر بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں ۔ اسی طرح افسانے میں کم کرداروں سے کہانی چلائی جاتی ہے۔ بعض اوقات کوئی ایک کردار بھی جزوی شناخت بناکر کہانی کو مکمل کر دیا کرتا ہے ۔ اسی طرح محدود مناظر سے کہانی کا ماحول بنایا جاتا ہے اور اس باب میں زمان مکان کو بھی کفایت کے ساتھ برتا جاتا ہے۔ ایسے میں متن کی رفتار ایک سی رہے تو افسانے کے سپاٹ اور یک سطحی رہ جانے کا احتمال ہوتا ہے۔ متن کو تخلیقی سطح پر برتنے والا جانتا ہے کہ اس کے تحرک کو مدہم یا تیز کیسے کیا جاسکتا ہے۔
ایک سے زیادہ سطحوں پر بنت
افسانے کامتن ایک سے زیادہ سطحوں پر بُنا جاتا ہے ۔ خارجی سطح ایک واقعہ کے دوسرے واقعہ سے جڑ کر بنتی ہے جب کہ باطن میں احساس اور معنیات کے دھارے بہہ رہے ہوتے ہیں ۔ بیانیے کو مختلف سطحوں پر برتنے کے لیے لازم ہے کہ زبان کی کارکردگی نگاہ میں رہے ۔ لگ بھگ ایک سے معنی دینے والے الفاظ کسی جملے میں استعمال کے قرینے سے اپنامزاج بدل لیا کرتے ہیں ۔ لفظوں کی صوتیات کو نگاہ میں رکھ کر اورایک جیسی اصوات کو دہرانے سے جملے کا آہنگ بدلا جاسکتا ہے۔ میں ہمیشہ سے کہتا آیا ہوں کہ افسانے میں فکشن کا جملہ ہی استعمال ہونا چاہیے ۔ شاعرانہ وسائل کا کثرت سے استعمال بیانیہ کم زور کر دیا کرتاہے ۔ شاعروں کی دیکھا دیکھی اچھی نثر لکھنے والے بھی آرائشی زبان لکھنے لگتے ہیں۔ تخلیقی زبان وضع کرنا اور آرائشی زبان کا اہتمام دونوں‘ مختلف وظیفے ہیں ۔ آرائشی زبان شاعری کے لیے مفید بنائی جاسکتی ہے ‘ مقررین ‘ سیاست دان اور خطیب حضرات بھی اس سے اپنے اپنے سامعین کومرعوب کر سکتے ہیں مگر افسانہ نگار کا منصب یہ نہیں ہے کہ وہ ایسی زبان کا اسیر ہو جائے ۔ ان کی زبان کو افسانے کے تخلیقی بہاﺅ کے زیر اثر ہی رہنا چاہئے۔ یہ راز بھی افشا کیے دے رہا ہوں کہ افسانے کی زبان میں بہت کچھ لکھی گئی سطروں کے بیچ میں کہا جاتا ہے۔
بیانیہ کے بھید
آرائشی زبان بیانیہ کو مدہم کر دیتی ہے ۔ بعض اوقات ایسی زبان کی وجہ سے کہانی آگے بڑھنے سے انکار کر دیتی ہے۔ افسانے کی زبان کو کہنا کم اور سجھانازیادہ ہوتا ہے ۔ یہ بتاتی کم اور تصویریں زیادہ بناتی ہے۔ ان تصویروں کو بنانے کے لیے خیال کا عکس بنایا جاتا ہے اور ایک عکس کو کسی دوسرے عکس سے مماثل قرار دے کر تصویر کے رنگ گہرے کر لیے جاتے ہیں ۔ یاد رہے متن کے اندر اس طرح کے قرینے متن میں معنی کی رفتار بڑھا دیا کرتے ہیں ۔ کسی ایک صورت حال کاکسی دوسری صورت حال کے ذریعے انعکاس اور انعطاف ایک متن میں ایک جست کی طرح آتا ہے ۔ تاہم واقعے یا کہانی کو علامت یا تصویر بنائے بغیر بیانیے میں علامتوں اور بنی بنائی تصویروں کے ٹکڑے لگانے سے رفتار میں رخنے پڑ جاتے ہیں ۔ یاد رہے فکشن کے بیانیے کا ایک وصف یہ بھی ہوتا ہے کہ اس میں کردار اور تخیل ہم آہنگ ہو جایا کرتے ہیں۔ محسوسات کو دیکھا جاسکتا ہے ۔ متن کی رفتار بھی انہی وسائل سے متعین کی جاسکتی ہے۔افسانے میں کہانی سامنے کی طرف یا پھر الٹے قدموں چلتی ہوئی آگے بڑھتی ہے ۔ وہ کہانیاں جو پیچھے کو زیادہ چلیں اور آگے کی سمت جست کم لگائیں ان کا بیانیہ بہت مدہم رہتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں وہ افسانے جن میں ماضی سے قوت پاکر مستقبل میں جست لگانے کا قرینہ ملتا ہے ان کا بیانیہ بھی تیز ہو جایا کرتا ہے۔جن دیگر وسائل کو بروئے کار لاکر افسانے میں بیانیہ کی رفتار کو مدہم یا تیز کیا جاتا ہے ان میں سے چند ایک یوں ہو سکتے ہیں:
جملے کی ساخت :

طویل جملہ لکھنے سے بیانیہ مدہم پڑجاتا ہے ۔ چست اور چھوٹے چھوٹے جملے متن میں معنی کی رفتار بڑھادیتے ہیں۔
وضاحتیں:

وضاحتوں سے متن کی رفتار مدہم پڑ جاتی ہے ۔ زیادہ وضاحتوں سے کہانی رک بھی جایاکرتی ہے۔
جزیات اورتفصیلات:

جزیات کہانی میں گہرائی کی سمت تحرک پیدا کرتی ہیں جب کہ تفصیلات کہانی کی رفتار میں رخنے ڈالتی ہیں۔
مکالمے:

ضروری مکالمے کہانی کی رفتار کو تیز تر کر سکتے ہیں۔ تاہم غیر ضروری مکالمے کہانی کے بہاﺅ کو روک دیتے ہیں۔
واقعات :

واقعہ زیادہ دورانیے کا ہوگا تومتن کی رفتار مدہم پڑ جائے گی اور اگر واقعات تیزی سے اگلے واقعے کے منتظر پیالے میں اپنا معنیاتی دھارا گراتے چلے جائیں گے تو متنی رفتار تیز ہو جائے گی۔
پیرا گراف :

لمبے لمبے پیرا گراف متن کی رفتار میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور قاری کی دل چسپی کو کم کرتے ہیں ۔ چھوٹے چھوٹے پیرا گراف سے اور افسانے میں اگر زمانی عرصہ طویل ہو تو متن کے حصے بنالینے سے ‘ متن کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔
اصرار اور تکرار:

کسی بات کی تکرار اور اس پر زور دینے سے متن رک کر معنی کی طرف متوجہ کرتا ہے ۔
اسی طرح فلیش بیک‘ جذبات نگاری ‘ ریشمیں لفظوں کا استعمال اورمناظر کی زیادہ مقدار بھی بیانیے کے بہاﺅ کو مدہم کر دیا کرتی ہے۔ ایک افسانہ نگار کو یہ سارے پہلو اور وہ ساری باتیں جو میرے بیان میںنہیں آئیں مگرکہانی کی رفتار متعین کرتی ہیں سیکھنا ہوں گی۔
فوری نظر میں آجانے والے اجزا
لیجئے ‘اب یوں کرتے ہیں کہ اپنی ساری توجہ افسانے کے فوری طور پر نظر میں آجانے والے اجزاءپر مرکوز کر دیتے ہیں۔ یہ اجزاءعام طور پر کردار‘پلاٹ‘زمان و مکان‘مرکزی خیال اور اسلوب کے طور پر شاخت کیے جاتے ہیں ۔ ناقدین نے ان کی کارکردگی کی وضاحت کے لیے یہ حیلہ بھی کیاہے :
کردار =
کون
پلاٹ=
کس طرح
زمان اور مکان=
کہاں اور کب
مرکزی خیال=
کیا
اسلوب =
کیسے
ایک حد تک ’کسی بھی افسانے میں ان اجزاءکی کارکردگی‘ اوپر متعین ہوچکی ہے ۔ کون‘کس طرح کہاں اور کب کیا کر رہا ہے اور کیسے/ کس دھج سے کر رہا ہے ۔ دیکھئے کتنی سہولت سے اس کی وضاحت بھی ہوگئی۔ میں آپ کے چہروں پراطمینان کی لہریںدیکھ کر جان گیا ہوں کہ آپ معاملہ کے اتنے سہل ہونے پر بہت خوش ہیں لیکن پیارے نوجوان افسانہ نگارو معاملہ اتنا بھی سادہ نہیں ہے ۔ لہذا ہمیں ایک ایک کو ذرا تفصیل بیان کرنا ہوگا۔
کردار اور راوی
کسی بھی قصے ‘ کہانی ‘ ڈرامے‘ناول یا افسانے میں کردار سے مراد وہ متنی شخص یا شخصیت ہوتی ہے جس کی وجہ سے سارے تنازع کے تناظر میں تحرک قائم ہوتا ہے ۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ افسانہ میں کردار کو اپنی شناخت بنانے اور کارکردگی دکھانے کے لیے بہت محدود علاقہ میسر ہوتا ہے لہذا افسانے کا کرداران سب اصناف کے کرداروں سے مختلف ہوجاتا ہے جن میں کردار کو دکھایا جاسکتا ہے یا اسے قائم کرنے اور اس کو حرکت دینے کے لیے زیادہ تفصیلات کو کھپایا جاسکتا ہے۔
اپنی سہولت کے لیے ہم کرداروں کی شناخت متعین کرنے لیے مختلف نوعیت کے افسانوں کو الگ الگ دیکھ لیتے ہیں مثلاً کچھ افسانے ایسے ہوتے ہیں جن مےںکوئی نہ کوئی ایسا موجود ہوتا ہے جو ماجرا کہہ رہا ہوتا ہے ۔ جب آپ توجہ سے دیکھیں گے توآپ پر کھلے گاکہ وہ جو کہانی بیان کر رہا ہے وہ خود بھی اس کہانی کا حصہ ہے ۔ ایسے افسانے صیغہ واحد متکلم میں لکھے جاتے ہیں ۔ راوی کردار چوں کہ ”میں“ کہہ کر ساری کہانی بیان کر رہا ہوتا ہے لہذا بسا اوقات اسے افسانہ نگار کی اپنی ذات سمجھ لیا جاتا ہے ۔یہ نادرست رویہ ہوگا۔ خود افسانہ لکھنے والوں کو بھی سمجھ لینا چاہیے کہ خود نوشت کا ”میں“ اور افسانے کا”میں“ دونوں الگ الگ ہوتے ہیں ۔ افسانے کے ”میں “ کو متنی کائنات کے اندر قائم ہوکر محض مصنف کی ذات تک محدود ہونے کی بہ جائے اپنے جیسے افراد کی علامت بن جانا ہوتا ہے۔
ایسا افسانہ لکھتے ہوئے کہ جس میں راوی کردار موجود ہو بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا ۔ ذرا سی بے احتیاطی کہانی کے کردار کو محدود کرکے ناقص بنا سکتی ہے ۔ ایسے کرداروں کی تخلیق میں جہاں یہ سہولت موجود ہے کہ یہ کردار اپنی باطنی کیفیات بیان کر سکتا ہے اسے اس رخنے سے واسطہ بھی پڑتا ہے کہ وہ دوسرے کرداروں کے باطن میں نہیں جھانک سکتا۔ پھر اس کردار کا جو بھی مزاج متعین کیا جائے گا پورے افسانے اور اس کے ماحول کا رنگ ڈھنگ بھی اسی کے نقطہ نظر سے قائم کرنا ہوگا۔
کچھ افسانوں میں راوی اور کردار الگ الگ اپنا منصب ادا کر رہے ہوتے ہیں ۔ آپ ایسے افسانوں کو غور سے دیکھیں گے تو محسوس کریں گے کہ ماجرا کہنے والا موجود تو ہے مگر وہ کہانی میں کہیں بھی خود داخل نہیں ہوا۔ میں ایسے راوی کو کرداروں سے الگ سمجھتا ہوں ۔ یہ راوی بعض اوقات واحد متکلم کے صیغے میں اپنی شناخت کہانی سے باہر قائم کرلیتا ہے اور ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ راوی اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر ساری کہانی کو غیر محسوس انداز میں بیان کردیتا ہے۔
میں کردار کی بحث میں راوی کو لے آیا ہوں مگر مجھے اندازہ ہونے لگا ہے کہ اس طرح بات دوسری سمت جا نکلے گی لہذا مناسب یہی ہوگا کہ اسے یہیں روک کر‘ کردار تک اپنے آپ کو محدود رکھیں۔
ایساکردار جو کہانی کے متن کے مرکز میں قائم ہوتا ہے اسے مرکزی کردار کہاجاسکتا ہے ۔ کہانی میں تحرک اس کردار کے وسیلے سے قائم ہوتا ہے اورپورے افسانے کا مزاج بھی یہی کردار متعین کرتا ہے ۔ تاہم ضروری نہیں ہے کہ وہ کردار جو کہانی کے متن میں ہر کہیں موجود ہوکر مرکزی ہوجائے وہی ا فسانے کے مرکزی خیال/نقطہ نظر یا پھر بنیادی تنازع کامظہر اور نمائندہ بھی ہو۔ دوسری قسم کا کردار افسانے کے اندر محض چند لمحوں کے لیے آکر تناظر قائم کرسکتا ہے۔ میں ایسے کردار کو سہولت کے لیے تناظری کردار کہہ دیتا ہوں ۔ کچھ کردار ضمنی یا پھر ثانوی حیثیت رکھتے ہیں تاہم ایسے کرداروں کی افسانے میں بہت کم جگہ ہوتی ہے اور وہ اسی حد تک جھلک دکھا پاتے ہیں جتنا کہ ان کی ضرورت ہوتی ہے۔
بعض افسانوںمیں افراد یا کسی زندہ مخلوق کی بجائے کردار کا منصب اشیا یا پھر احساس کی ایک سطح کوادا کرنا ہوتا ہے ۔ یعنی ایک کہانی بیان ہو رہی ہے جس میں کوئی آدم ہے نہ آدم زاد ‘ حتی کہ وہ جنگل بھی نہیں ہے کہ کوئی درندہ آکر کردار کے منصب کو سنبھال لے ‘ایک اجاڑ منظر ہے اور یہی اجاڑ پن کہانی کے اندر بیانیے کے ساتھ جڑ کر کردار بن گیا ہے ۔ ایک کائناتی منظر کا تصور کیجئے جہاں بادل ہیں اور بادلوں کے اوپر سب کچھ تیر رہا ہے وہاں طبعی زندگی کا تصور موجود نہیں ہے مگر وہاں تخیل کہانی کو لے گیا ہے اور مابعد کا ایسا منظر بنادیا ہے جس میں کہانی اورکردار وہیں کے مظاہر ادا کرنے لگتے ہیں ۔
ایسے افسانے بھی دیکھے گئے ہیں جن میں کردار کا چہرہ تو غائب ہو تاہے مگر اس کا وجود سارے قضیے کو قائم کر رہا ہوتا ہے ۔ جی میری مراد کسی سر کٹے کردار سے نہیں بل کہ ایسے کردار سے ہے جس کا افسانے میں کوئی نام نہیں ہوتا مگر اس کی شخصیت پوری طرح قائم ہوجاتی ہے ۔ تو یوں ہے کہ افسانے کی کائنات کرداروں سے اٹی پڑی ہے۔ ہر کردار کا منصب جدا ہے لہذا لکھنے والے سے ہر کردار کا مطالبہ بھی الگ ہوتا ہے ۔
پلاٹ
یاد رہے کہ میں نے کردار کے سامنے ”کون “ لکھا تھا۔ اگرآپ اس ”کون “کو جان گئے ہیں تو جس طرح کہانی کے اندر یہ افسانے کے بنیادی تنازع کے ساتھ جڑتا ہے اسے ” پلاٹ“ کہتے ہیں ۔ یہیں یہ بھی یاد دلا دوں کہ میں نے ”پلاٹ “کے سامنے” کس طرح“ لکھوایا تھا۔ پلاٹ کو دوسرے لفظوں میں کہانی کی ترکیب اور تناسب بھی کہا جاسکتا ہے ۔ پلاٹ کو کہانی کے اندر مختلف واقعات کی ترتیب اور ترکیب سے ہی آنکا جاسکتا ہے۔ اسی سے کہانی کی ایک جہت متعین ہوتی ہے۔ افسانہ نگار کہانی کو زمانی اعتبار سے قائم نہیں کرتا بل کہ اسے اپنے پلاٹ کے تابع کرتا اور کرداروں کو اس پلاٹ میں متحرک رکھ کر تناﺅ اور اتار چڑھاﺅ کی کیفیات بناتا ہے ۔ یہ پلاٹ ہی ہوتا جس کے ذریعے مصنف یہ طے کرتا ہے کہ اسے کہانی کے قضیے کا تناﺅ اس کے آغاز میں بیان کردینا ہے یا وسط میں ۔ اور پھر اس تناﺅ کو کہاں معمول پر لاکر اس میں بنیادی قضیے کی معنیات کو قائم کرنا ہے ۔
روایتی کہانی میں پلاٹ کی بہت اہمیت تھی مگر افسانہ چوں کہ پوری زندگی کے بیان کی بجائے زندگی کی ایک قاش ہوتا ہے لہذا اس کے اندر سے کسی ٹھوس پلاٹ کا تصور معدوم ہوتا چلا گیا ۔ حتّٰی کہ بعض ایسے بھی افسانے لکھے گئے ہیں‘ جن کے بارے میں دعوا ملتا ہے کہ ان میں پلاٹ سرے سے غائب ہے ۔ اس دعوا کو مان لینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے تاہم میں سمجھتا ہوں کہ پلاٹ نہ سہی پلاٹ کے ایک احساس کی زمین بہ ہر حال ہر افسانے میں موجود ہوتی ہے جس پر ہر کہانی اپنے دھج سے چلتی آگے بڑھتی ہے۔
بعض افسانے اپنے متن کی بالائی سطح سے ایک صورت حال کو بیان کر رہے ہوتے ہیں اور ڈیپ اسٹریکچر یعنی باطنی ساخت میں اس سے بڑی /گھمبیر صورت حال بیان ہورہی ہوتی ہے ۔ یوں کہانی کا خارج اس کی باطنی کہانی کے لیے علامتی منصب سنبھال لیتا ہے۔ ایسی کہانیوں کے لیے پلاٹ /پلاٹ کے زیر اثر قائم احساس کی بھی ایک سے زیادہ جہتیں ہوں گی۔ دیکھا گیا ہے کہ ایسے افسانوں میں باطنی کہانی کے لیے خارجی کہانی سے کہیں زیادہ مضبوط پلاٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔
آپ جانتے ہی ہیں کہ افسانے کے آخرحصے میں اشیا بالعموم اپنی تاثیر بدل لیتی ہےں اور احساس میں تبدیلی واقع ہوجاتی ہے۔ یہ پلاٹ ہی ہے جس کے ذریعہ مصنف اس باب میں حکمت عملی طے کرتا ہے۔ ایک بہتر حکمت عملی قوت تاثیر میں اضافہ کا موجب بنتی ہے اور اس میں خامی رہ جائے تو افسانے کی کہانی وقت سے پہلے ہی کھل کر پھس پھسی ہوجاتی ہے۔
پلاٹ افسانے کے پس منظر اور ماجرے کے اندر ایک تناظر بناتا ہے۔ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں: پلاٹ کہانی کا اسٹریکچر بناتا ہے اور طے کرتا ہے کہ کہانی کو کس ترتیب سے چلنا اور کرداروں کو اس کہانی میں کس حد تک جانا ہے۔ تاہم میں کہہ آیا ہوں کہ کہانی کے کرداروں میں اب تک اتناحوصلہ پیدا ہو چکا ہے کہ وہ اس کے جبر کو توڑ کر باہر نکلتے رہیں ۔ یوں بھی تو کہا جاسکتا ہے کہ کہانی اور اس کے کردار کس حد تک ایک روایتی پلاٹ کے باہر جست لگا سکتے ہیں یہ بھی ایک لحاظ سے افسانے کے پلاٹ کی” ضمنی“ میں لکھ لیا جاتا ہے۔
زمان اور مکان
زمان اور مکان کا قصہ دل چسپ بھی ہے اور اہم بھی ۔ افسانے کی کہانی کسی نہ کسی زمانے کے اندر ظاہر ہوتی ہے اور اس ظہور کے لیے اسے کسی نہ کسی مکان میں موجود بھی ہونا چاہیے۔ کسی بھی کہانی میں زمان و مکان کا یہی جواز کافی ہے ۔ تاہم یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ وقت یعنی زمان ہمیشہ سے مکان کے ساتھ پیوست رہا ہے۔ آدمی نے اپنے تجربے سے اسے قائم کیا اور اس کی تعبیر کی ہے۔ جان لینا چاہیے کہ وقت و زمان کی یہ کلینڈری اور تقویمی تقسیم ایک سماجی وظیفے کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ وقت کو جن پیمانوں سے یہاں ماپا گیا ہے وہ ہماری باطنی کیفیات کے مقابل آتے مات کھا جاتے ۔ افسانے کا معاملہ اس سیکھے ہوئے اور اپنی دانست کے مطابق گھڑے ہوئے وقت سے بھی ہے‘ جس میں سیکنڈ‘منٹ ‘گھنٹہ آگے چل کر دن‘ مہینے اور سال کے قالب میں ڈھلتا ہے اور اس وقت سے بھی جس میں سدھائے ہوئے اس وقت میں اکھاڑ پچھاڑ ہوتی رہتی ہے ۔ کیوں کہ افسانے میں بہ ہر حال وقت کو انسان کے باطنی مزاج سے ہم آہنگ ہونا ہوتا ہے۔
جس طرح صدمے ‘خوشی‘ انتظار جیسی کیفیات میں باطنی وقت کی ساعتیں سمٹ یا پھیل جاتی ہیں اسی طرح ماضی حال اور مستقبل کی ترتیب میں واقع ہونے والی کہانی افسانے کی زمانی ترتیب سے منحرف ہوجایاکرتی ہے ۔
میں پہلے ہی کہہ آیا ہوں کہ زمان اور مکان باہم پیوست ہوتے ہیں اور یہاں یہ اضافہ کرنا ہے کہ زمان جس مکان کے ساتھ جڑتا ہے اسی کی دھج سے چلتا ہے۔ کہیں وقت ٹھہر کر جم جاتا ہے اور کہیں قلانچیں بھرنے لگتا ہے ۔ کہیں گاڑھاہو کر اپنی رفتار مدہم کر لیتا ہے اور کہیں دھچکے لگا کر اس میں وقفے ڈالتا چلا جاتا ہے ۔ ان ساری صورتوں میں آپ دیکھیں گے کہ کہانی کا مزاج بالکل بدل گیا ہے ۔ کہانی کا بدلا ہوا مزاج ہی تاثیر کی قوت پیدا کرتا ہے اور اس معنویت کو بھی اجالتا ہے جو کہانی کے مرکزی تصور سے جڑی ہوئی ہوتی ہے ۔
مرکزی خیال کے باب میں ایک وضاحت
کیا مجھے ایک بار پھر بتانا ہوگا کہ ہم ”مرکزی خیال “ کو افسانے کے اجزائے تراکیبی میں شمار کر چکے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے اس کے سامنے ” کیا“ بھی لکھ چکے ہیں ۔ یہاں آپ کی توجہ اس بنیادی قضیے کی فکری/ حسی جہت کی جانب چاہیے جو کہ کہانی میں اٹھایا گیا ہوتا ہے ۔ جب جب میں افسانے میں نقطہ نظر کے قیام کی بات کر رہا ہوتا ہوں تو اس کا مطلب قطعا ًیہ نہیں ہوتا کہ یہاں مصنف کے نقطہ نظر کی بات ہو رہی ہے ۔ اس سے مراد بیج کی طرح موجود وہ خیال ہے جس سے افسانہ پھوٹتا ہے یا پھر احساس کاوہ ہالہ جو افسانے کے گرد موجود ہوتا ہے ۔
اسلوب
اب رہ گئی بات اسلوب کی ۔ اپنی بات آگے بڑھانے سے پہلے آپ کو چوکنا کردوں کہ اس باب میں ہمارے ہاں بہت گمراہی پھیلائی جاتی رہی ہے ۔ اسے محض ایک خاص طرح کا جملہ بنانے اورمحدود ذخیرہ الفاظ کے ذریعے ایک تاثر پیدا کرنے یا پھر شعری وسائل کے کثرت استعمال تک محدود کر لیا گیا ہے۔ بجا کہ لکھنے کا ڈھنگ ‘ واقعے کی رفتار ‘ جملے کی ساخت ‘ الفاظ کا چناﺅ ‘ سوچنے سمجھنے کا انداز ‘ یہ سب اور وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جو ہمارے مزاج میں اتری ہوئی ہوتی ہیں کسی بھی تخلیق میں اہم کردار ادا کرتی ہیں‘ تاہم یہ جان لینا چاہیے کہ اسلوب بنیادی طور پر ہرتخلیق کار کے اپنے اسلوب حیات سے پھوٹتا ہے ۔ اسلوب اسی تخلیق کار کے ہاں بنتا ہے جو مختلف شعبہ ہائے زندگی اورمتنوع علوم سے معاملہ کرے یا روزمرہ کے عمومی وظیفے کے مقابل ہوتو اس کے فکری اور حسی فیصلوں کی ایک جہت بنے ۔ بات بات پر قبلہ بدلنے والے ‘ فکری گہرائی سے نابلد اور مزاج کے اتھلے یا فیشن زدہ فن کاروں کے ہاں اسلوب نہیں بنا کرتا ۔ تاہم مسلسل مشق اور مشقت سے اس کا التباس ضرورپیدا کیا جاسکتا ہے ۔
آخر میں ‘ایک بار پھر
میں نے جوکچھ کہا وہ سب‘ اس لحاظ سے اہم سہی کہ جو کام آپ کرنے جا رہے ہیں اس کی مبادیات کی خبر ہونی چاہیے ( تاہم میں جو باتیں کر آیا ہوں ‘ انہیں ہمارے ہاں یوں سمجھنے کا چلن نہ سہی مگریہ غیر معمولی باتیں نہیں ہیں۔ اگر آپ کو موقع ملے تو اپنے پسندیدہ افسانوں کو بار بار پڑھیں ‘اس طرح کے کئی اور بھید خود بخود آپ پر ظاہر ہوتے چلے جائیں گے)۔ میں پہلے بھی کہہ آیا ہوں اور یہاں ایک بار پھردہرانا چاہتا ہوں کہ جب آپ افسانہ لکھنے بیٹھیں توایسے اجزاءکی فہرست بنا کر اور ان کی بابت چوکنے ہو کر مت بیٹھیں۔ دیکھیں سانس لینا ہم سب کے لیے بہت اہم سہی مگر یہ کب ہوتا ہے کہ ہر سانس کے ساتھ اس کا تخمینہ بھی لگارہے ہوں کہ کتنی مقدار میں آکسیجن پھیپھڑوں میں پہنچ رہی ہے۔ تخلیقی لپک کو آزادی سے کام کرنے دیں اور اس کی راہ میں رخنے مت ڈالیں ۔ اگر آپ سب کچھ بھول کراس خاص افسانے کے تخلیقی آہنگ سے جڑ نے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو آپ لکھنے جارہے ہیں تویقین رکھیں کہ افسانہ لکھنے کا قرینہ خود بخود آپ کے لہو کا حصہ ہو کر آپ کی رگوں میں دوڑنے لگے گا ۔
(بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ‘اسلام آباد کی دعوی اکیڈمی کے زیر اہتمام نوجوان قلم کاروں کی ورکشاپ‘منعقدہ ۶۱ دسمبر‘2008 میںکی گئی گفت گو ۔)

٭٭٭